السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کیا حال ہے آپ کا
حضرت مجھے ایک مسئلہ در پیش ہے کہ ڈاڑھی کے بارے میں ،میں نے ایک کلپ سنا ہے،ڈاکٹر علی قدر صاحب ہیں کوئی ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے گروپ کے یعنی منہاجی گروپ کے ،
انہوں نے اپنے پیج سے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کہ داڑھی رکھنے کی کوئی شرعی حدود مقرر نہیں ہے، یہ جو کہا جاتا ہے کہ ایک بالش ڈاڑھی رکھنی ہے اس کی صراحت کسی حدیث مبارک میں وارد نہیں ہوئی ہے ،یعنی یہ بات نہ عبارۃ النص اور نہ ہی اشارۃ النص اور نہ ہی اقتضاء النص سے ثابت ہوتی ہے کہ ڈاڑھی کی شرعی حدود اتنی ہے ۔المختصر یہ کہ ڈاڑھی آدمی جتنی رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے ۔اب آپ سے میرا سوال ہے کہ اس کو شرعی طور پر حل فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔
داڑھی تمام انبیاءِ کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت اورشعارِاسلام ہے ، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کے لیے اپنی امت کوہدایات دی ہیں اوراس کے رکھنے کاحکم دیا ہے،یہ بات متعدد احادیث مبارکہ کی عبارت النص اور عمل صحابہ کے ذریعہ واضح ہوتی ہے کہ ڈاڑھی کی مقدار کم از کم ایک مشت (بالشت) ہے۔
جن میں سے چنداحادیث بمع ترجمہ درج کی جاتی ہیں:
عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: جُزُّوا الشوارب، وأرخوا اللحی، خالِفوا المجوس".(صحیح مسلم)
ترجمه :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:"خالفوا المشركين، وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب"(متفق علیہ)
ترجمه :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مشرکوں کی مخالفت کرو، مونچھیں پست کرو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔"
عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خالفوا على المجوس جزوا الشوارب وأوفوا اللحى". (مسند البزار = البحر الزخار ۔13/ 90)
ترجمه : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجوسیوں کی مخالفت کرو ،مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔
مذکورہ بالا احادیث میں صراحت سے داڑھی کے بڑھانے کا حکم دیاگیا ہے، اوریہ بات واضح ہےکہ رسول اللہ ﷺ کے صریح حکم کی خلاف ورزی ناجائزاورحرام ہے۔
صحابہ کرام وتابعین عظام کا عمل (جو سنت کی عملی تفسیر ہے) اسی کے مطابق تھا کہ وہ ایک مشت سے کم ڈارھی کرنے کوجائزنہیں سمجھتے تھے،جن میں بعض سے منقول عمل بطورمثال ذکرکیاجاتاہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ:
عن عبداللہ بن عمرؓ کان إذا حلق رأسه في النسك أخذ من لحيته ما فضل عن القبضة"(سنن ابی داود، کتاب المناسك، حدیث: 4191)
ترجمه: جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی ڈاڑھی کو ایک مشت کے برابر پکڑتے، اور جو زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے۔
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ:
كان إذا حلق رأسه في النسك أخذ من لحيته ما فضل عن القبضة."(مصنف ابن ابی شیبہ: 8/186)
ترجمه :حج یا عمرہ کے وقت ایک مشت سے زائد ڈاڑھی کاٹتے، اس سے کم نہیں کرتے تھے۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ:
أنه كان يأخذ من طول لحيته وعرضها."(مصنف ابن ابی شیبہ: 8/186)
ترجمه : اپنی ڈاڑھی کی لمبائی اور چوڑائی میں سے صرف زائد حصہ کاٹتے تھے، نہ کہ مکمل تراشتے یا چھوٹی کرتے۔
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ (تابعی):
كانوا يكرهون أن تُؤخذ من اللحية إلا ما فضل عن القبضة."(مصنف ابن ابی شیبہ: 8/186)
ترجمه : ان کے نزدیک ایک مشت سے کم کرنا مکروہ تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ (فقیہ مدینہ):
"ويأخذ من طولها إذا طالت، ومن عرضها إذا عرضت، ولا بأس بذلك، (الموطأ، للإمام مالك، كتاب الجامع، باب ما جاء في أخذ الشارب، برقم: 1722)
ترجمه : ان کے نزدیک ڈاڑھی کو بالکل منڈوانا یا چھوٹی کرنا جائز نہیں،البتہ صرف ایک مشت سے زائد حصے کو تراشنا جائز ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ:
"يحرم حلق اللحية، وكذلك قصّها إذا لم يبق منها ما يسمى لحية."(الاختيارات الفقهية، ص: 75)
ترجمه :یعنی ڈاڑھی مونڈنا اور اتنی کاٹنا کہ ڈاڑھی نہ کہلائے، دونوں حرام ہیں۔
ان تمام دلائل وشواہدسے یہ ثابت ہوتاہےکہ حضور ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اور تابعین،اور تبع تابعین، فقہاء، محدثین، علماء، مشایخ سمیت پوری امت میں ڈارھی کاایک مشت ہونامتوارث رہاہےاورکسی بھی معتبرفقیہ یامحدث سے اس کے خلاف منقول نہیں ۔
اس متعلق کسی شخص کا یہ کہنا کہ "ڈاڑھی کی مقدار شریعت میں متعین نہیں، ایک مشت کی حد نہ عبارۃ النص سے، نہ اشارۃ النص سے، نہ اقتضاء النص سے ثابت ہے" یہ بات شرعی نصوص، صحابہ کرام کے عمل اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔بلاشبہ یہ مسئلہ اشارۃ النص اور اقتضاء النص کے ساتھ ساتھ عمل متواتر سے بھی ثابت ہے۔اس لیےڈاڑھی کا ایک مشت سے کم کرنا ناجائز و گناہ ہے، اور شریعت میں اس کی کم از کم مقدار "ایک مشت" مقررہے۔ اس سے کم رکھنے کی اجازت دینا عوام کو سنت سے دور کرنے اور دین میں تحریف کے مترادف ہے ،لہذاسائل اوراہل اسلام پرلازم ہے کہ ایسے تمام افرادجومجمع علیہ مسائل میں امت میں تفریق اورانتشارپھیلانے کاباعث بن رہے ہوں ان کے لیکچرزاوربیانات سننے سے احترازکریں۔