"السلام علیکم" مفتی صاحب ! میں نے یہ سوال پوچھنا تھا کہ میں پچھلے سال تبلیغی جماعت کے ساتھ چلے (40)پر گیا،وہاں جا کر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا آخری چلّا ہے، پھر کسی وجہ سے میں نے درمیان میں ہی واپسی کر لی، اب میرے دو سوال تھے :1) کیا اس صورت میں کہ جب میں نے قسم کھائی تھی کہ یہ آخری چلا ہے مگر اس کو مکمل کیے بغیر میں گھر چلا گیا تو کیا قسم کا کفارہ دینا ہوگا اور:2) اب اس سال میں دو بارہ چلےکےلیے گیا مگر پھر درمیان میں واپسی کرلی تو اب کفارہ کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر قسم کھا کر مذکور جملہ " یہ میرا آخری چلّا ہے" کہا ہو، اس جملہ کے علاوہ مزید کچھ نہ کہا ہو، تو ایسی صورت میں صرف ان الفاظ سے قسم منعقد نہیں ہوئی، لہٰذا اس کے بعد چلّہ پر جانے یا اسی چلّہ سے واپس گھر جانے سے کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
کما فی الدر المختار: وركنها اللفظ المستعمل فيها اھ (کتاب الایمان، ج:3، ص:704، م:سعید)۔
وفي بدائع الصنائع: وأما اليمين المعقودة فهي اليمين على أمر في المستقبل نفيا أو إثباتا نحو قوله والله لا أفعل كذا وكذا وقوله والله لأفعلن كذا اهـ (كتاب الايمان ، ج 3 ، ص : 5 ، م : رشيدية)۔