السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فارغ اوقات میں کیا کرتے تھے ؟ اگر بالفرض ان کے پاس فارغ اوقات نھیں تھے تو کیا مسلسل کام کی وجہ سے وہ حضرات اکتاہٹ یا ملل کا شکار نہیں ہو اکرتے تھے ؟ میں ایک دینی مدرسے میں پڑھاتی ہوں ،مسلسل پڑھانا اور ایک جیسے روٹین کی وجہ سے سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہوں ،ایسے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟ نیز صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تفریح کے بارے میں ضرور رہنمائی کریں۔
صحابہ کرام کی زندگی کا اصل محور اگرچہ عبادت ،تعلیم وتعلم، دعوت وجہاد اور حلال ذریعہ معاش اختیار کرنا تھا، تاہم اس کے باوجود یہ حضرات انسانی فطرت سے ماوراء نہ تھے، بلکہ اسلام نے ان کی فطری ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اعتدال کے ساتھ جسمانی وذھنی راحت کا مکمل لحاظ رکھا ہے ،حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ایک روایت میں اس سے متعلق رہنمائی ملتی ہے ،وہ لوگوں کو ہفتہ میں ایک دن درس دیا کرتے تھے ،لوگوں نے ہر روز درس دینے کا اصرار کیا تو فرمایا کہ تمہیں روز درس دیکر اکتاہٹ میں مبتلاء نہیں کرنا چاہتا اور فرمایا کہ رسول اللہﷺ بھی ہمیں نشاط برقرار رکھنے کیلئے موقع بموقع نصیحت فرمایا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل یکساں مشغولیت (چاہے دینی ہو یا دنیاوی )اگر طبیعت پر گراں گزرنے لگے تو اس میں وقفہ اختیار کرنا سنت نبوی کے عین مطابق ہے، لہذا ایسی تفریح کرنا جو گناہ ،لغویات یا فرائض سے غفلت کا باعث نہ بنے اور دل میں تازگی اور عبادت و ذمہ داری میں نشاط پیدا کرے، بعض اوقات ضروری و مطلوب ہوجاتی ہے ،اس لئے سائلہ اگر مسلسل یکساں روٹین کی وجہ سے ذہنی دباؤ محسوس کررہی ہو تو وہ ذہنی دباؤ سے بچنے کیلئے شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے کچھ عرصہ کیلئے تدریسی امور سے رخصت لیکر جائز تفریح اختیار کرسکتی ہے ۔
کما فی صحیح البخاری : عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رضي الله عنه قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: "ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ؛ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ". قَالَ: فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "مَا لَكُمْ لَا تَرمُونَ؟ " قَالُوا: كَيْفَ نَرمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ؟ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: "ارْمُوا فَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ،باب التحریض علی الرمی،رقم الحدیث :2743)
و فیہ ایضا : حدثنا عثمان بن أبي شيبة قال: حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي وائل قال: كان عبد الله يذكر الناس في كل خميس، فقال له رجل: يا أبا عبد الرحمن، لوددت أنك ذكرتنا كل يوم؟ قال: أما إنه يمنعني من ذلك أني أكره أن أملكم، وإني أتخولكم بالموعظة، كما كان النبي صلى الله عليه وسلم يتخولنا بها، مخافة السآمة علينا.
و فی شعب الایمان : عن زيد بن أسلم، عن أبيه عن عمر أن رجلًا كان يلقب حمارًا. وكان يهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم العُكة من السمن والعُكة من العسل، فإذا جاء صاحبها يتقاضاه جاء به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقول: يا رسول الله، أعط هذا ثمن متاعه، فما يزيد رسول الله صلى الله عليه وسلم على أن يتبسم ويأمر به فيعطى،ج: 2 ،رقم الحدیث : 498)
حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0