السلام علیکم ! مجھے شیئرز کے بارے میں کچھ امپورٹنٹ سوالات کے جوابات چاہیئے، میرے والد نے 2010 یا اس سے پہلے کچھ شیئرز لئے تھے حبیب بینک لمیٹڈ اور یو بی ایل بینک لمیٹڈ کے، جو کہ کچھ میری والدہ کے نام پہ کیے تھے اور کچھ ان کے نام پہ تھے، مجھے ان شیئرز کے بارے میں آپ سے کچھ سوال کرنے ہیں۔
نمبر ون: کیا یہ شیئرز میں بیچ سکتا ہوں اور اس کے جو پیسے ہیں، وہ استعمال کر سکتا ہوں؟ کیا اس شیئرز کے جو ڈیویڈنڈ میرے پاس آئے ہیں، کیا میں اس کو استعمال کر سکتا ہوں یا مجھے سارے ڈیویڈنڈ واپس کرنے پڑیں گے؟ اور شیئرز کیونکہ یہ خریدے تو انہوں نے اپنی کمائی سے تھے، کیا اس وقت کی کمائی کے حساب سے میں پیسے جو اس وقت کے شیئرز کی ویلیو ہے، اس میں جو ڈفرنس ہے، میں اس کے لحاظ سے وہ پیسے بھی رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟ یہ بھی پلیز بتائیے گا کہ میرے والد ابھی حیات ہیں اور یہ سارے ڈیویڈنڈ اور شیئرز انہوں نے فی الحال میرے نام پہ کیے ہیں سیل کرنے کے لئے، مجھے جو لگتا ہے وہ یہ سارے پیسے سود کے ہیں، تو پلیز مجھے اس چیز میں رہنمائی فرمائیں اور یہ بتا دیں کہ ان پیسوں کو مجھے رکھنا چاہیے یا بغیر ثواب کے کسی کو دے دینا چاہیے؟ آپ سے گزارش ہے کہ مجھے ان تمام سوالات کے جلد سے جلد جواب دیں، تاکہ میں اپنے والد صاحب کو دکھا کے پھر یہ فیصلہ کر سکوں کہ ان کا کیا کرنا ہے۔
واضح ہو کہ جو بینک سودی لین دین یا سود پر مبنی کاروبار کرتا ہو تو ایسے بینک کے شیئرز خریدنا یا ان میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے مذکور بینکوں کے جو شیئرز خرید رکھے ہیں، ان کی فروختگی کی صورت میں ان کے لئے صرف قیمتِ خرید کے بقدر رقم اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، اس پر حاصل ہونے والا منافع بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا اور اس اضافی رقم کو اپنے استعمال میں لانے سے احتراز لازم ہے۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ: احل اللّٰہ البیع و حرم الربوا (سورۃ : البقرۃ ، آیت : 275)ـ
وفی تکملۃ فتح الملھم : عن جابر قال: لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال :ھم سواء الخ
و فیه ایضاً : قولہ” کاتبہ “ لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا، کالکتابۃ أو الحساب، فذلک حرام لوجھین: الأول : إعانۃ علی المعصیۃ، والثانی: أخذ الأجرۃ من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا، و أما إذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال،اھ (باب لعن آکل الربا وموکله ، ج: 1 ، ص: 619 ، ط: دارالعلوم کراچی)ـ۔
وفی الدر المختار : الحرمۃ تتعدد مع العلم بہا الا فی حق الوارث وقیدہ فی الظہیرۃ بان لا یعلم ارباب الاموال الخ
وفی رد المحتار: تحت : (قوله الا فی حق الوارث الخ) (الی قوله) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه الخ (باب البیع الفاسد ، ج: 5 ، ص: 98 ، ط: سعيد)۔
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0