محترم مفتی صاحب!میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں سرمایہ کاری کرتا ہوں۔ میری گزارش ہے کہ براہِ کرم درج ذیل طرزِ سرمایہ کاری کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ آیا یہ طریقہ حلال ہے یا نہیں:
1.مجھے میرے اسٹاک بروکر کی طرف سے ایک "Buy Call" یا "Buy Signal" موصول ہوتا ہے، جس میں واضح بتایا جاتا ہے کہ کس کمپنی میں کب سرمایہ کاری کرنی ہے، متوقع منافع کتنا ہو سکتا ہے اور تقریباً کب وہ منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔
2. اس سگنل کے بعد میں سب سے پہلے اس کمپنی کو چیک کرتا ہوں کہ وہ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں ؟یعنی کمپنی کا کاروبار حلال ہو اور وہ PSX یا KMI-30 کی Shariah Compliant لسٹ میں شامل ہو۔
3. اگر کمپنی شریعت کے مطابق ہو تو میں اپنی ذاتی رقم سے وہ شیئر خریدتا ہوں۔ میں مارجن، قرض یا لیوریج پر کوئی خرید و فروخت نہیں کرتا۔
4. میں ملکیت مکمل ہونے (T+2 سیٹلمنٹ) تک انتظار کرتا ہوں اور ملکیت سے پہلے کوئی شیئر فروخت نہیں کرتا۔
5. جب کمپنی کا ریٹ یا ہدف قیمت (Target Price / TP2) حاصل ہو جاتی ہے تو میں اپنے شیئر فروخت کر دیتا ہوں۔
6. عموماً یہ پورا عمل ایک سے چار ہفتوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔
7. میرا مقصد صرف حلال اور جائز طریقے سے سرمایہ کاری کرنا ہے، نہ کہ جوا یا قیاس آرائی۔
براہِ کرم اس طرزِ سرمایہ کاری کے بارے میں شرعی رائے یا فتویٰ عنایت فرمائیں کہ کیا یہ طریقہ حلال اور درست ہے؟
جزاکم اللہ خیراً۔
سائل کیلئے سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق شیئرز کی خرید وفروخت کر کے اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله: فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أي النقدان بأن بيع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزنا ومن قبض البدلين قبل الافتراق الخ(6/ 209)۔
وفي الدر المختار: (ولا يجوز بيعها) لحديث مسلم «إن الذي حرم شربها حرم بيعها» الخ (6/ 449)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وتصدق إلخ) أصله أن الغلة للغاصب عندنا؛ لأن المنافع لا تتقوم إلا بالعقد والعاقد هو الغاصب فهو الذي جعل منافع العبد مالا بعقده، فكان هو أولى ببدلها، ويؤمر أن يتصدق بها لاستفادتها ببدل خبيث وهو التصرف في مال الغير درر الخ (6/ 189)۔
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0