السلام علیکم !ایک شوہر نے بیوی کو طلاق نہیں دی ،بلکہ ویسے خفگی کی صورت میں والدین کے گھر چلی گئی ہے ،اب چھ سال گزر چکے ہیں ،وہ شوہر سے رجوع کرنا چاہتی ہے ،لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ حمل سے ہے ،وہ اس چیز کو شاید چھپانے کیلیے شوہر کے ہاں آنا چاہتی ہے ،لیکن شوہر بھی اس بات کو سخت ناگوار سمجھتا ہے ،اب دوسری جانب شوہر بھی اپنی عزت کو بچانے کی سوچ رہا ہےتو کیا یہ رجوع اور ازدواجی تعلق بحال ہو سکتا ہے ؟ تو اس صورت حال میں انھیں کیا کرناچاہیے فتویٰ کی شکل میں جواب درکار ہے ،تاکہ تسلی ہو جاے
واضح ہو کہ اگر شوہر نے بیوی کو طلاق نہ دی ہو تو محض میاں بیوی کا طویل عرصہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،لہذا صورت مسؤلہ میں میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے ،اور دونوں حسب سابق دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ،تاہم مذکور خاتون کے حاملہ ہونے کے متعلق چونکہ سوال میں تفصیل مذکور نہیں کہ یہ حمل شوہر کے ںظفے سے ٹھہرا ہے یا ناجائز تعلق کے نتیجے میں خاتون حاملہ ہوئی ہے ، اس لئے اس کے متعلق مکمل وضاحت کے بغیر کوئی حکم نہیں بتایا جاسکتا۔
كما في صحيح البخاري:عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ:كَانَ عُتْبَةُ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدٍ: أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي، قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: (هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ). ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: (احْتَجِبِي مِنْهُ). لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فما رآها حتى لقي الله.(ج:٤،ص:٢٩٦٦،مط:بشرىٰ)
و فى الدرالمختار: كِتَابُ الطَّلَاقِ (هُوَ) لُغَةً رَفْعُ الْقَيْدِوَشَرْعًا (رَفْعُ قَيْدِ النِّكَاح فِي الْحَالِ) بِالْبَائِنِ (أَوْ الْمَآلِ) بِالرَّجْعِيِّ (بِلَفْظٍ مَخْصُوصٍ) هُوَ مَا اشْتَمَلَ عَلَى الطَّلَاقِ.(ج:٣،ص:٢٢٧)
وفى الهداية: ولأن الامتناع عن قربانها في أكثر المدة بلا مانع وبمثله لا يثبت حكم الطلاق فيه "(ج:٢،ص:٢٥٩)
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1