مسئلہ عرض یہ ہے کہ جب کسی بڑے کی طرف خط لکھا جائے تو اس کے آداب میں طریقہ کار کیا ہوگا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط ارسال فرمائے بادشاہوں کی طرف تو اس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نام مع والد اور اس کے بعد جس کی طرف خط بھیجا اس کا نام اور اس کے بعد سلام،۔ اور سلام بھی اس انداز سے تحریر فرمایا سلام علی من اتبع الھدی ، جبکہ بندہ اپنا نام آخر میں لکھتا ہے ،اگر پہلے اپنا نا م شروع خط میں لکھ دیا جائے تو بے ادبی تو نہیں ؟
واضح ہو کہ اس سلسلے میں شرعا کوئی خاص طریقہ کار متعین نہیں البتہ بڑوں کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنے کا حکم ضرور ہے اور اس سلسلہ میں ہر زمانے کے عرف کا لحاظ رکھا جائےگا چنانچہ جب کسی کی طرف خط لکھا جائے تو جس طرف خط لکھا جارہا ہو اس کے مرتبے کے موافق خط میں الفاظ استعمال کئے جائینگے دیکھا جائے کہ وہ بڑا ہے یا چھوٹا ہے یا برابر کا ہے جس درجے کا آدمی ہو اس کے موافق خط میں الفاظ استعمال کیئے جایئنگے ، بڑوں کے خط کو والا نامہ ، سرفراز نامہ ،افتخار نامہ ، کرامت نامہ ، اعزاز نامہ ، صحیفہ عالی ، صحیفہ گرامی لکھتے ہیں ،جیسے یہ لکھنا منظور ہو کہ آپ کا خط آیا تو یوں لکھیں گے جناب والا کا سرفراز نامہ آیا یا سرفراز نامہ صادر ہوا ،سرفراز نامہ نے مشرف فرمایا اور چھوٹے کے خط کو مسرت نامہ ،راحت نامہ لکھتے ہیں اور برابر والے کے خط کو عنایت نامہ ، کرم نامہ لکھتے ہیں اور خط لکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ مثلا اگر باپ کو خط لکھا جائے تو اس طرح لکھا جائے کہ جناب والد صاحب مخدوم و معظم فرزندان دام ظلکم العالی السلام علیکم بعد تسلیم بصد آداب و تعظیم کے عرض ہے کہ آپ کا والا نامہ آیا خیریت مزاج مبارک کے دریافت ہونے سے اطمینان ہوا ، اس کے بعد اور جو کچھ مضمون لکھنا منظور ہو لکھا جائے گا ۔اس میں سے دام ظلکم العالی تک جو کچھ لکھا جاتا ہے اس کو آداب کہتے ہیں اس کے بعد جو حال چاہے لکھا جائے اس کو خط کا مضمون کہتے ہیں ۔(ماخوز ازبہشتی زیور )
كما جاء فى الصحيح البخاري: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُرِئَ فَإِذَا فِيهِ: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ(ج:٢،ص:١٣٨٧)
وفى سنن ابي داؤد: وَكَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِمُجَّاعَةَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِمُجَّاعَةَ بْنِ مَرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَى إِنِّي أَعْطَيْتُهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ، يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِكِي بَنِي ذُهْلٍ عُقْبَةَ مِنْ أَخِيهِ.(ج:٢،ص:١٢٠٢)
وفيها ايضا: فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ لِعَكٍّ ذِي خَيْوَانَ، إِنْ كَانَ صَادِقًا فِي أَرْضِهِ وَمَالِهِ وَرَقِيقِهِ فَلَهُ الْأَمَانُ، وَذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ، وَكَتَبَ خَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ.(ج:٢،ص:١٢١٣)