کیا فرماتے ہیں حضراتِ مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ:
کہ قرآن و حدیث میں تو حکم ہے کہ دائیں ہاتھ پر چلو، اور قانوناً گاڑی، موٹر سائیکل وغیرہ بائیں ہاتھ پر چلائی جاتی ہے۔ تو کیا بائیں ہاتھ پر آدمی گاڑی چلانے سے گناہ گار ہوگا یا دائیں ہاتھ پر گاڑی چلانے سے آدمی مجرم ہوگا؟ اس مسئلے کا بالتفصیل جواب مرحمت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
اولا تو یہ جاننا چاہیے کہ گناہ اور جرم کا ارتکاب اس وقت لازم آتا ہے جب کسی فرض و واجب کا ترک ہو یا ترک سنت پر دوام کیا جائے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ تیامن یعنی سیدھی جانب سے چلنا یا اُسے ترجیح دینا سنن عادیہ میں سے ایک مستحب امر ہے جس کے اختیار کرنے میں اجر و ثواب اور ترک میں گناہ کا لزوم نہیں ، جبکہ گاڑی میں ڈرائیور کا بیٹھنا دائیں طرف سے ہی ہوتا ہے اور اسی طریقہ پر اوور ٹیک بھی دائیں طرف سے ہی لازم ہے۔ اس لئے بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
ففي صحيح مسلم: عن سالم، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «لا يأكلن أحد منكم بشماله، ولا يشربن بها، فإن الشيطان يأكل بشماله، ويشرب بها» اھ (3/ 1599)
و في تكملة فتح الملهم : (قوله ولا يأخذ بها ولا يعطى بها) يعني كان لا يستعمل اليد اليسرى في الأخذ والإعطاء وانما كان يفعل ذلك بيمينه وهو الأدب وهذا كله كما قال النووي اذا لم یکن عذر يمنع استعمال اليمين فى الأكل والشرب والأخذ والإعطاء فان كان هناك عذر فلا بأس باستعمال الشمال به اھ (۴/ ۶) والله أعلم بالصواب