بخدمت حضرت مفتی صاحب
موضوع: دو طلاقوں کے بعد رجوع (رجوع) کی شرعی حیثیت کے لیے فتویٰ کی درخواست
محترم جناب،
میں، ساجد حسین ولد رسول بخش (مرحوم)، شناختی کارڈ نمبر 42201-5294023-7، ساکن گھر نمبر 1029، گلی نمبر 3، نزد رہمانیہ مسجد، چکرا گوٹھ، کورنگی نمبر 1، کراچی ایسٹ، آپ کے حضور یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرے اور میری اہلیہ، نازیہ نادر دختر نادر علی جگیرانی (مرحوم)، کے درمیان گھریلو اختلافات کی وجہ سے 29 ستمبر 2025 کو دو طلاقیں ہوئیں۔
بعد ازاں، میں نے عدت کے اندر 11 نومبر 2025 کو شرعی طور پر رجوع کیا اور اس کی اطلاع اپنی اہلیہ کو واٹس ایپ/ایس ایم ایس کے ذریعے دی۔ تاہم، اہلیہ کے اہل خانہ اس رجوع پر راضی نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ میرے پاس نہیں آ رہی اور نہ آنے پر آمادہ ہیں۔
میں آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ اس رجوع کی شرعی حیثیت کے بارے میں فتویٰ جاری فرمائیں اور مجھے اگلے اقدامات کی شرعی رہنمائی فراہم کریں۔
والسلام،
صورت مسئولہ میں سائل نے اگر صریح الفاظ طلاق میں فقط دو طلاقیں دی ہو ں ،اس کے علاوہ کسی موقع پر مزید کوئی طلاق زبانی یا تحریری نہ دی ہو تو سائل کو دوران عدت رجوع کرنے کا حق حاصل تھا، چنانچہ جب اس نے دوران عدت رجوع کر لیا ہے تو اس سے رجوع بھی ہو چکا ہے اور حسب سابق دونوں کا نکاح بر قرار رہا۔ لہذا سائل کی بیوی اور اس کے سسرال والوں پر شرعاً لازم ہے کہ اس سلسلے میں انکار کے ناجائز رویے سے احتراز کریں ۔سسرال والوں کو چاہیے کہ جلد از جلد بیٹی کو اس کے شوہر کے پاس بھیج کر اس کی خانہ آبادی کی کوشش کریں ۔
كما في الفتاوى الهندية:إذا طلق الرجل إمراته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذٰلك أو لم ترضِ..(ج:١،ص:٤٧٠،الباب السادس في الرجعة،مكتبة ماجدية)
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1