السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
(١) حضرت سنا ہے کہ قارون جس نے ایک جنت بنائی تھی اس کی ولادت ایک ٹوٹی ہوئی کشتی میں ہوئی تھی ، جس کے ٹوٹنے کے بعد صرف ماں اور ایک بچہ باقی بچ گئے تھے، عین اسی وقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ ماں کی روح قبض کرلی جائے، چنانچہ صرف بچہ باقی رہ گیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اُس بچہ کی پرورش کا پورا انتظام فرمایا، بالآخر وہ بڑا ہو گیا، اور اُس نے اپنے زمانہ کے نبی سے مقابلہ کرتے ہوئے کہا کہ تیرے کہنے کے مطابق اگر ہم نماز پڑھیں اور زکوۃ دیں تو تیرا اللہ ہمیں کیا دے گا ؟ نبی نے جواب دیا کہ جنت دے گا، تو اُس پر اس نے کہا کہ جنت تو میں بھی بنا سکتا ہوں ، پھر اُس نے جنت نما محل تعمیر کیا، اور جیسے ہی اُس نے اپنا پہلا قدم اُس میں رکھا، اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملک الموت کو اُس کی قبض روح کا حکم ہوا، اور اُس کی روح اسی حالت میں قبض ہو گئی ۔
مذکورہ قصہ اختصاراً پیش کرنے کے بعد اب سوال یہ ہے کہ یہ قصہ قارون کا ہے یا شداد کا ؟ اور یہ قصہ صحیح بھی ہے یا افسانہ ہے ؟
(٢) اللہ تعالی نے ملک الموت سے ایک مرتبہ پوچھا کیا تجھے کبھی کسی کی روح قبض کرتے وقت رحم آیا ہے ملک الموت نے کہا کہ ایک تو وہ بچہ جو کشتی پر سوار تھا اور فوراً اس کی ماں کی روح قبض کرنے کا حکم دے دیا گیا اور وہ بے سہارا رہ گیا تھا اس پر رحم آیا اور دوسرا وہ جس نے جنت بنائی تھی اور اس نے اپنا پہلا قدم رکھا تھا جنت بنانے کے بعد اس میں اور اسی وقت اس کی روح قبض کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا اس پر رحم آیا تھا ان دو پر مجھے رحم آیا تھا،
یہ قصہ درست ہے یا نہیں سچ ہے یا جھوٹ ہے قابلِ بیان ہے یا نہیں برائے کرم راہنمائی فرمائیں۔
(٣) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اللہ تبارک و تعالی کو اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھا تھا یا نہیں؟
(1۔2)سائل نےسوال میں جو قصہ ذکر کیا ہے ،کتابوں میں یہ شداد کی جنت کے نام سے مشہور ہے لیکن واضح ہو کہ شداد کے جنت بنانے سے متعلق قصہ نیز اس طرح دوسرے قصے یعنی سمندر میں بچایا جانا اور مذکور جنت میں دخول کے وقت اسکی روح قبض کیا جاناوغیرہ یہ سب قصے من گھڑت اور موضوع ہیں ،محقیقین علماء اور مشائخ حدیث نےان کی تردید کی ہے لہذا ان قصوں کو بیان کر نے سے احتراز لازم ہے ، اسی طرح قارون کا جنت بنانا کسی روایت سے ثابت نہیں،(3) جمہور صحابہ وجمہور تابعین و محقیقین کے نزدیک نبی اکرم ﷺکادنیاوی آنکھوں سےاور حالت بیداری میں ،اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت کو دیکھنا ثابت ہے،اس مسئلہ میں بعض صحابہ کا اختلاف ہے اسلئے اس مسئلے کے بارے میں مثبت یا منفی پہلو میں کسی بھی جانب تشدد اختیار کرنے سے احتراز چاہئے۔
کمافی روح المعانی: ويروى أنه كان لعاد ابنان شداد وشديد فملكا وقهرا ثم مات شديد وخلص الأمر لشداد فملك الدنيا ودانت له ملوكها فسمع بذكر الجنة فقال: أبني مثلها فبنى إرم في بعض صحارى عدن في ثلاثمائة سنة وكان عمره تسعمائة سنة وهي مدينة عظيمة قصورها من الذهب والفضة وأساطينها من الزبرجد والياقوت، وفيها أصناف الأشجار والأنهار المطردة. ولما تم بناؤها سار إليها بأهل مملكته، فلما كان منها مسيرة يوم وليلة بعث الله تعالى عليهم صيحة من السماء فهلكوا. وعن عبد الله بن قلابة أنه خرج في طلب إبل له فوقع عليها فحمل ما قدر عليه مما ثمّ، وبلغ خبره معاوية فاستحضره فقصّ عليه فبعث إلى كعب فسأله، فقال: هي إرم ذات العماد وسيدخلها رجل من المسلمين في زمانك أحمر أشقر قصير على حاجبه خال وعلى عقبه خال، يخرج في طلب إبل له، ثم التفت فأبصر ابن قلابة، فقال: هذا والله ذلك الرجل. وخبر شداد المذكور أخوه في الضعف بل لم تصح روايته كما ذكره الحافظ ابن حجر فهو موضوع كخبر ابن قلابة.(ج:29، ص:222 ،مط :مکتبہ امدادیہ)
وفی تفسیر المظہری: ما كذب الفؤاد اى فواد محمد صلى الله عليه وسلم ما رأى قال ابن مسعود راى محمد صلى الله عليه وسلم جبرئيل له ستمائة جناح وكذا روى عن عائشة رض وأنكرت عائشة روية النبي صلى الله عليه وسلم وبه روى البخاري عن مسروق قال قلت لعائشة يا أماه هل راى محمد صلى الله عليه وسلم ربه فقالت لقد يقف شعرى مما قلت اين أنت من ثلث من حدثكهن فقد كذب من حدثك ان محمد راى ربه فقد كذب ثم قرأت لا تدركه الابصار وهو يدرك الابصار وهو اللطيف الخبير وما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء الحجاب ومن حدثك انه يعلم ما فى غد فقد كذب ثم قرأت ما تدرى نفس ماذا تكسب غدا ومن حدثك انه كتم شيأ من الوحى فقد كذب ثم قرأت يا ايها الرسول بلغ ما انزل إليك من ربك الاية ولكن راى جبرئيل فى صورته مرتين وقال ابن عباس ما كذب الفؤاد ما راى ولقد راه نزلة اخرى ان محمدا صلى الله عليه وسلم راى ربه جل وعلى بفؤاده مرتين كذا روى مسلم عنه وفى رواية الترمذي قال ابن عباس راى محمد ربه قال عكرمة قلت أليس الله يقول لا تدركه الابصار وهو يدرك الابصار وقال ويحك ذاك إذا تجلى بنوره الذي هو نوره وقد راى محمد ربه مرتين واخرج ابن جرير عن ابن عباس انه صلى الله عليه وسلم سئل هل رايت ربك قال رايت بفؤادى وقال انس والحسن وعكرمة راى محمد صلى الله عليه وسلم ربه يعنى بعينه قال البغوي قال عكرمة عن ابن عباس قال ان الله اصطفى ابراهيم بالخلة واصطفى موسى بالكلام واصطفى محمد صلى الله عليه وسلم بالروية وروى الترمذي عن الشعبي ان كعب الأحبار قال لابن عباس ان الله قسم رويته وكلامه بين محمد وموسى فكلم موسى مرتين وراى محمد صلى الله عليه وسلم مرتين قلت المراد بالروية المختلف فيها اما الروية بالبصر واما الروية القلبية المعبر عنها بالمشاهدة فغير مختص بالنبي صلى الله عليه وسلم بل يتشرف اولياء أمته صلى الله عليه وسلم ايضا وقد ادعى بعض الأولياء الروية البصرية وذلك خلاف اجماع فى حق غير النبي صلى الله عليه وسلم وهذا الدعوى مبنى على الاشتباه ووجه الاشتباه ان الصوفي قد يرى ربه بقلبه وهو يقظان ويتعطل حينئذ بصره لكنه يزعم فى غلبة الحال انه يراه ببصره وانما هو يراه بقلبه وبصره معطل وقوله عليه السلام رايته بفؤادى لو ثبت لا يدل على انفى الروية بالبصر الا بالمفهوم قلت وقول ابن مسعود وعائشة شهادة على النفي وشهادة الإثبات أرجح وما احتج به عائشة على نفى رويته صلى الله عليه وسلم فلا يخفى ضعفه واما قوله تعالى لا تدركه الأبصار فقد ذكرنا فى تفسير تلك الاية فى سورة الانعام ان الدرك أخص من الروية۔(ج:9،ص:107،مط: مکتبہ رشیدیہ)
مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم
یونیکوڈ واقعات 0