عقیقہ کے متعلق سوال ہے ،کہ اگر کوئی ساتویں دن بھی نہ کر سکے تو آگے اسے کب تک ادا کرنا چاہیے ،کہ ساتویں دن کے بعد جانور موجود ہو جاتیں ہیں ،کیا نویں ،دسویں ،گیارہویں ،دن کرسکتا ہے ؟
واضح ہو کہ اگر کوئی ساتویں دن عقیقہ نہ کر سکے تو چودھویں ،ورنہ اکیسویں دن عقیقہ کرنا مستحب ہے ،اس کے بعد استحباب ختم ہوجاتا ہے ،البتہ بعد میں جب بھی کرنا ہو ساتویں دن کے اعتبار سے کرے ،یعنی جس دن بچے کی ولادت ہوئی اس دن سے ایک دن پہلے ،یعنی اگر پیدائش جمعہ کے دن کی ہو تو جمعرات کا انتخاب کرے ،بقیہ ایام بھی اسی حساب سے عقیقہ کیلئے منتخب ہوں گے ۔
کما فی جامع الترمذی : عن سمرة : قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الغلام مرتهن بعقيقته، يذبح عنه يوم السابع، ويسمى، ويحلق رأسه، رقم الحدیث : 1522 )
و فیہ ایضاً : عند اهل العلم: يستحبون أن يذبح عن الغلام العقيقة يوم السابع، فإن لم يتهيأ يوم السابع، فيوم الرابع عشر، فإن لم يتهيأ، عق عنه يوم حاد وعشرين،
و فی موسوعۃ الفقہ علی المذاھب الاربعۃ : قال الشافعية: إن لم تذبح في السابع ذبحت في الرابع عشر، وإلا ففي الحادي والعشرين، ثم هكذا في الأسابيع.ج: 5،ص: 549۔)