مجھے طلاق کے معاملے میں رہنمائی چاہیے۔ شادی کو دو مہینے ہوئے تھے اور میاں بیوی کے درمیان آپس میں علیحدگی ہو گئی، اور آپس میں ازدواجی تعلق قائم نہیں ہو سکا، یعنی مباشرت (Intercourse) نہیں ہوئی۔ تو کیا شوہر نے جو تین طلاقیں دی ہیں وہ نافذ ہو گئی ہیں؟
اور اب دوبارہ ان کے ملنے کی کوئی صورت ہے یا نہیں
ہمبستری نہ ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ میاں بیوی ایک شہر سے دوسرے شہر سفر میں تھے اور انہی دنوں شوہر کے ساتھ کچھ مسائل پیش آئے، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ باہمی ان بن بھی تھیں جو غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہوئیں۔
اور طلاق کے جو الفاظ تھے وہ یہ تھے کہ:
"میں ۔۔۔ اپنے پورے ہوش و حواس میں، ۔۔۔کو طلاق دیتا ہوں۔
اگر کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے، لیکن لڑکی کی طرف سے کچھ مسائل کی وجہ سے دونوں میں آپس میں اس حد تک انڈرسٹینڈنگ نہیں ہو پائی۔
نوٹ: خلوت صحیحہ ہوئی ہے میاں بیوی دو مہینہ ایک ساتھ رہے ہیں ۔طلاق ،طلاق نامہ کے ذریعے دی گئی ہے ،اور طلاق نامہ میں تین طلاقیں درج ہیں ۔
"میں محمد حمزہ ولد فراز احمد اپنے حوش و حواس میں حناخلیل ولد محمد خلیل کو طلاق دیتا ہوں "
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے خلوت صحیحہ ہو جانے کے بعد اپنی بیوی کو طلاق نامہ میں درج مذکور الفاط ''میں محمد حمزہ ولد فراز احمد اپنے پورے ہوش و حواس میں ۔۔۔ کو طلاق دیتا ہوں'' کے ذریعے تین طلاقیں دے دی، اگرچہ ان کے درمیان ہمبستری کا تعلق نہ پایا گیا ہو ،تب بھی اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی حاشية رد المحتار على الدر المختار : باب طلاق غير المدخول بها (قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق) (وإن فرق) (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،(تحت قولہ)قال: وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا جميعا فقد خالف السنة وأثم وإن دخل بها أو لم يدخل سواء، بلغنا ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن علي وابن مسعود وابن عباس وغيرهم رضوان الله عليهم (قوله وما قيل إلخ) على ما نقله في شرح المجمع عن كتاب المشكلات وأقره عليه، حيث قال: وفي المشكلات من طلق امرأته الغير مدخول بها ثلاثا فله أن يتزوجها بلا تحليل، وأما قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ففي حق المدخول بها. اهـ.(باب طلاق غير المدخول بها، ج:3، ص:285،مط: دار الفكر - بيروت)
و فی النهاية في شرح الهداية (شرح بداية المبتدي): الطلاق البائن: هو الذي لا رجعة فيه إلا بمهر وعقد جديدين، وهو على نوعين: بائن بينونة صغرى، وهو طلاق غير المدخول بها طلقة واحدة أو طلقتين، ومضي عدة المدخول بها بعد واحدة أو طلقتين.
وبائن بينونة كبرى: وهو الذي يكون بعد الطلقة الثالثة، وعندئذ لا يحق لها الرجعة حتى تنكح زوجا غيره.اھ(باب الخلع: ج:9، ص: 02 )