"السلام"کمپنی سالانہ پرافٹ میں سے کبھی dividend دیتی ہے اور کبھی نہیں، یہ اسکی مرضی ہوتی ہے۔ تو ایسا معاملہ درست ہے، یعنی ایسی کمپنی کا شئیرز لینا؟دوسرا کیا یہ جاننا ضروری ہے کہ کمپنی کا سرمایہ میں سودی قرض اور سودی منافع کی شرح فلاں فلاں فیصد سے کم ہو، یا فقط اکثر سرمایہ حلال ہونے کی صورت میں بھی شئیرز لیئے جاسکتے ہیں؟
واضح ہوکہ جب کسی کمپنی کو منافع ہوتا ہے تو وہ اس کا کچھ حصہ شیئر ہولڈرز کو دیتی ہے۔ اس رقم کو ’’ڈیویڈنڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اوریہ کمپنی کی طرف سے تبرعاً دی جاتی ہے، لہٰذا جو کمپنی سالانہ پرافٹ میں سے کبھی dividend دیتی ہے اور کبھی نہیں، ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنے میں کوئی حرج نہیں ۔نیز جس کمپنی کے شیئرز خریدے جا رہے ہیں، اسمیں درجِ ذیل شرائط پائی جائیں: (1)اس کا اصل کاروبار حلال ہو، اور اس میں حرام کی آمیزش ٪5 (پانچ فیصد) سے کم ہو ، تو ایسی صورت میں مذکور کمپنی کے شیئرز کی صورت میں ملنے والے منافع بھی شرعاً حلال ہونگے ،البتہ سائل کے ذمے سودی آمیزش کے بقدر رقم صدقہ کرنا شرعاً ضروری ہوگا ،
(2) اور اس کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثے بھی وجود میں آچکے ہوں، یعنی صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں ، ورنہ فیس ویلیو کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید و فروخت جائز ہوگی،
(3) ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو، بلکہ آمدنی سے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو،
(4) نفع اور نقصان دونوں میں شراکت ہو ،
(5) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے تو اس کی سالانہ میٹنگ ( AGM) میں سود کے خلاف آواز اٹھائی جائے ، جب منافع تقسیم ہو تو دیکھ لیا جائے کہ نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو بلانیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کر دے ۔
کما فی قولہ تعالٰی : احل اللہ البیع و حرم الربوا(البقرۃ:275)-
وفی مرقاۃ المفاتیح : عن جابر رضی اللہ عنہ قال : لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربوا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ ، و قال : ھم سواء رواہ مسلم (باب الربا، الفصل الاول، ج : 6، ص : 51، م : حقانیۃ)
وفی الشامیۃ : و الحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم ، و الا فان علم عین الحرام لایحل لہ و یتصدق بہ بنیۃ صاحبہ و ان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام و لایعلم اربابہ و لا شیئامنہ بعینہ حل لہ حکما و الاحسن دیانۃ التنزہ عنہ (مطلب فیمن ورث مالا حراما، ج : 5، ص : 99، ط : سعید)
وفی الدر المختار : کتاب الھبۃ : ھی تملیک العین مجانا ای بلاعوض ، و رکنہا ھو الایجاب و القبول ،الخ
وفی الشامیۃ : افاد ان التلفظ بالایجاب و القبول لایشترط ، بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک۔(کتاب الھبۃ، ج : 5، ص : 687، ط : سعید)
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0