میرا پچھلا فتویٰ میری حالت کے بارے میں واضح نہیں تھا، اور 14 ماہ گزر چکے ہیں، میں اب تک الجھن میں ہوں۔ایک طلاق کاغذ پر دی میں نے اپنی بیوی سے کہا: "ایک ماہ بعد میرے ساتھ اپنی عدت ختم کر لو میرا ارادہ رجوع (واپس لینے) کا تھا اور میں سمجھتا تھا کہ اسے عدت ختم کرنے کا کہنا ہی اسے واپس لینا ہے، ویڈیو کے ذریعے قربت باہمی رضامندی سے ہوئی، ویڈیو کے دوران استعمال کیے گئے الفاظ درج ذیل ہیں:
1. میں اپنی بیوی کو واپس چاہتا ہوں
2. میں تمہیں چاہتا ہوں
3. میرے پاس آ جاؤ
4. مجھے تمہاری ضرورت ہے
5. گھر آ جاؤ
اور اسی طرح کے دیگر الفاظ بھی ویڈیو کے دوران کہے گئے،میں آج یونین کونسل میں نکاح رجسٹر کروانا چاہتا ہوں۔مجھے فوری طور پر ایک واضح فتویٰ درکار ہے۔میں اور میری بیوی اس کے بعد بھی ملے، تقریباً 3 ماہ بعد، اور جسمانی تعلق بھی ہوا، لیکن ہم دونوں نے اپنے والدین کو نہیں بتایا (یعنی جسمانی تعلق اس وقت ہوا جب اس کے والدین نے اسے ملازمت کے لیے باہر جانے کی اجازت دی، اور وہ سمجھتے تھے کہ اس کی عدت ختم ہو چکی ہے)۔ ہم مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہیں، میں نے حالات کے پرسکون ہونے کا انتظار کیا تاکہ میں اسے واپس لا سکوں، کیونکہ اس کی کچھ شرائط تھیں جیسے نیا گھر وغیرہ۔ اور وہ ویڈیو والی قربت کی وجہ سے بتانے میں شرما رہی تھی۔ میرا نام شاہمیر خان ہے، بیوی کا نام فاطمہ سلیم ہے۔ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے، اس کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ میں اور میری بیوی رجوع کر چکے ہیں۔ میں نے اسے کہا کہ اپنی عدت ختم کر لو اور ہم نے ویڈیو کال پر قربت اختیار کی۔ اگرچہ یہ طریقہ اسلامی طور پر روایتی نہیں تھا، لیکن میرا ارادہ بالکل واضح تھا، اور اسلام میں ارادہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (بخاری و مسلم) ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ» "تین چیزیں ایسی ہیں کہ سنجیدگی سے ہوں یا مذاق میں، دونوں صورتوں میں سنجیدہ ہی شمار ہوتی ہیں: نکاح، طلاق، اور رجوع" اور میں مذاق نہیں کر رہا تھا بلکہ سنجیدہ تھا۔
صورت مسئولہ میں سائل نے اگر صرىح الفاظ مثلاً"طلاق ديتا ہوں" كے ذرىعہ بىوى كو اىك طلاق دىدى ہو تو اس سے سائل كى بىوى پر ايك طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے،جس کا حکم یہ ہےکہ دورانِ عدت سائل کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، چنانچہ سائل نے دواران عدت ویڈیو کال کے ذریعے جو قربت اختیار کی اس سے اگرچہ رجوع درست نہیں ہوا تھا، مگر اس کے ساتھ اگر سائل نے رجوع کے مذکور الفاظ "میں اپنی بیوی کو واپس چاہتا ہوں، میں تمہیں چاہتا ہوں ،میرے پاس آ جاؤ، مجھے تمہاری ضرورت ہے، گھر آ جاؤ" کہہ دیے ہوں تو اس سے ىہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہے، تاہم سائل کے پاس آئندہ کیلئے دو طلاق کا اختیار باقی رہیگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہىے۔
وفي الهداية: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض" لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها اهـ [کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2 ص:254 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)]
وفي الفتاوى التاترخانية: م: إذا أراد الرجل أن يراجع امرأته فالأحسن أن يراجعها بالقول لا بالفعل، وفى الظهيرية: والرجعة بالقول أن يقول: رجعتك، أو: راجعتك، أو: رددتك، أو: أمسكتك، وفي السغناقي: في الحضرة أو الغيبة. الظهيرية: أو يقول بالفارسية: باز أو ردمت، أو: نگاه دارم ترا، وفي الهداية: والرجعة أن يقول: راجعتك، أو: راجعت امرأتي؛ وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة اهـ (كتاب الطلاق، الفصل الثاني والعشرون في مسائل الرجعة، ج:5 ص:138 ط: رشيدية)