میان بیوی کی آپس میں نہیں بنتی، تاہم دونوں بچوں کی خاطر صرف ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ شوہر اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے چکا ہے اور بعد میں زبانی رجوع کر لیا ہے۔ کیا صرف زبان سے رجوع کرنا کافی ہے؟ اور جسمانی تعلق کے بغیر ان کا رجوع کرنے سے رشتہ قائم رہے گا؟ شریعت کی رائی بتادیں۔
اگر کسی شخص نے الفاظ صریح کے ساتھ (جیسے میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تجھے طلاق ہے، وغیرہ) اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی ہوں، تو اس کا حكم ىہ ہے کہ شوہر کو عدت (یعنی تین ماہواریاں، یا جنہیں ماہواری نہ آتی ہو، ان کے لیے تین مہینے) کے اندر اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، رجوع زبانی بھی کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ میں نے تجھ سے رجوع کیا، تم میری بیوی ہو، وغیرہ۔ چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر واقعةً شوہر نے صرف دو طلاقىں دی ہوں، اور اس کے بعد عدت کے دوران صرف زبانی رجوع کر لے تو اس سے بھی رجوع ہو جائے گا اور ان کے لیے بدستور میاں، بیوی کی حیثیت سے بچوں کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہوگی، مگر شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار رہے گا، اس لیے طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
كما في الدر المختار: وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله: راجعتك) أي في حال خطابها، مثله: راجعت امرأتي في حال غيبتها وحضورها أيضا، ومنه ارتجعتك ورجعتك فتح.اهـ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 398، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة.اهـ (الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 468، ط: مكتبة ماجدية)
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1