بسم اللہ الرحمن الرحیم !موضوع: طلاق کے بعد رجوع کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے، محترم مفتی صاحب!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !میرا نام محمد عاطف ہے اور میں کراچی کا رہائشی ہوں۔ گزارش ہے کہ درج ذیل مسئلہ میں میری شرعی رہنمائی فرمائی جائے:میں نے دوسری شادی کی، جس کے بعد میری پہلی بیوی مجھ سے مسلسل طلاق کا مطالبہ کرتی رہی، بالآخر میں نے تنگ آ کر اپنی پہلی بیوی کو ایک طلاق دے دی، طلاق کے بعد ہماری آپس میں واٹس ایپ پر گفتگو جاری رہی، طلاق کے تقریباً 45 دن کے اندر میں نے اپنی بیوی سے واضح الفاظ میں کہا:"آپ میری بیوی ہیں اور ہمیشہ رہو گی، ان شاء اللہ"اس بات کے گواہ درج ذیل افراد ہیں:میرے سسر (بیوی کے والد)ان کے تایا میری بہنیں اور بہنوئی ، بعد ازاں، میرے سسر کے کہنے پر میں تقریباً 80 دن کے بعد اپنی بیوی کو واپس لانے گیا، لیکن وہ میرے ساتھ آنے پر آمادہ نہ ہوئی، اسی دوران مجھے رات کے وقت میری بیوی کی طرف سے پیغام ملا کہ:"میں اب آپ کی بیوی نہیں رہی، مجھے تین حیض آ چکے ہیں"میری بیوی کے ساتھ میری 12 سالہ ازدواجی زندگی ہے اور ہمارے چار بچے ہیں (دو بیٹے اور ایک بیٹی)، اب میرا سوال یہ ہے کہ:کیا میرا مذکورہ جملہ سے رجوع ہوایا نہیں؟
واضح ہوکہ طلاق رجعی کے بعد عدت کے دوران زبانی طورپررجوع کرلینے سے بھی میاں بیوی کانکاح بحال ہوجاتاہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے واقعۃًاپنی بیوی کو صریح الفاظ طلاق یعنی "میں تجھے طلاق دیتاہوں ،یا"میں نے تمہیں طلاق دی "وغیرہ سے ایک رجعی طلاق دی ہو، اور طلاق کے تقریباً 45 دن بعد عدت کے دوران (طلاق کے بعد تین حیض مکمل ہونے سے پہلے) بیوی کومذکور جملہ "آپ میری بیوی ہیں اور ہمیشہ رہو گی، ان شاء اللہ۔ گواہوں کی موجودگی میں کہاہو ، توایسی صورت میں رجوع درست ہوچکاہے اور دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے، لہٰذا دونوں میاں ،بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں، چنانچہ اب سائل کی بیوی کا نکاح کے ختم ہونے کا دعویٰ کرنا درست نہیں اور نہ ہی فی الحال کسی دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔
کما فی الھندیۃ:الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.( ألفاظ الرجعة صريح وكناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.(والكناية) : أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير. اھ(الباب السادس فی الرجعۃ الخ،ج:1،ص:468،ط: ماجدیۃ)
وفی الھدایة:واذا طلق الرجل امرآته تطلیقةً رجعیةً او تطلیقتین فله ان یراجعھا فی عدتھا رضیت بذالک او لم ترض لقوله تعالی:فامسکوھن بمعروف من غیر فصل (الی قوله) والرجعة ان یقول راجعتک او راجعت امراتی(الی قوله) ویستحب ان یشھد علی الرجعة شاھدین فان لم یشھد صحت الرجعة(الی قوله) ویستحب ان یعلمھا کیلا تقع فی المعصیة الخ اھ(2/314)۔
وفی بدائع الصنائع : وإن كانت معتدة من طلاق فإن أخبرت بانقضاء عدتها في مدة تنقضي في مثلها العدة يقبل قولها، وإن أخبرت في مدة لا تنقضي في مثلها العدة لا يقبل قولها(الی قولہ ) لأنها أمينة في إخبارها عن انقضاء عدتها(کتاب الطلاق فصل فی مایعرف بہ انقضاءالعدۃ ج3 ص198 ط:سعید )
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1