اسٹاک مارکیٹ میں شریعہ کمپلائنس کے شئیرز خرید کراسی دن فروخت کرسکتے ہیں یا نہیں؟ آج کل سب آن لائن سسٹم ہے ایک ہی آپشن پر رقم ٹرنسفر اور شئیرز کی خریدوفروخت ہوجاتی ہے، برائے مہربانی کرکے رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ شیئرز کی خریدوفروخت کے جائز ہونے کےلئے جہاں یہ ضروری ہے کہ وہ شیئرز حلال کاروباری کمپنی کے ہوں، تو وہاں یہ بھی لازم ہے کہ وہ شیئر ہولڈر کے قبضہ میں بھی ہوں، قبضہ کئے بغیر شئیرز کو آگے بیچنا شرعاً جائز نہیں، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اسٹاکس کی خریدوفروخت کا موجودہ رائج نظام میں شئیرز کی خریداری کے بعد سی ڈی سی کے ذریعے متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں خریدار کے نام میں تبدیلی کے لئے فقط ایک کاروباری دن کافی قرار دیکر ٹی پلس ون (T+1) کے فارمولے کے مطابق اسٹاک ایکسچینج کی اصطلاح میں نام کی اس تبدیلی کو ہی ڈیلیوری اور قبضہ کہا جاتا ہے۔ اور شرعی طور پر بھی سی ڈی سی اکاؤنٹ میں شیئرز کے خریدار کے نام پر منتقل ہونے کو قبضہ سمجھا گیا ہے، لہٰذا سی ڈی سی اکاؤنٹ میں خریدار کے نام پر شیئرز منتقل ہونے سے پہلے ڈیلیوری نہ ہونے کی وجہ سے شیئرز کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں ، البتہ سی ڈی سی میں نام منتقل ہونے کے بعد اس کی خریدفروخت شرعا بھی جائز اور درست ہے۔
کما فی الدر المختار: (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار، حتى لو كان علوا أو على شط نهر ونحوه كان كمنقول ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه كما سيجيء إلخ(باب المرابحۃ والتولیۃ، ج: 5، ص: 147، ط: سعید)۔
وفی الھدایۃ: "ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه"
لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك“ إلخ(باب المرابحۃ والتولیۃ، ج: 3، ص: 59، ط: دار احیاء التراث)۔
وفی فقہ البیوع علی المذاھب الأربعۃ: المسئلۃ الثالثۃ: أن الذی یجری علیہ العمل فی سوق الأسھم التقلیدیۃ أن المشتری بعد عقد شراء الأسھم، ربما یبیع الأسھم المشتراۃ إلی شخص ثالث قبل موعد التسلیم (Delivery) فھل یعتبر ذلک بیعاً قبل القبض، فلایجوز؟ فربما یظن أنہ لیس بیعاً قبل القبض، لأن معنی القبض أن تنتقل إلی المشتری حقوق المبیع والتزاماتہ، وأن یدخل المبیع فی ضمانہ، وإن کل ذلک یحصل بمجرد عقد البیع الأول، حیث یسجل ھذا البیع فی الکمبیوتر، کما اعترف بہ أصحاب البورصۃ (إلی قولہ) ولکن الحقیقۃ، کما یظھر بالتأمل فی ضوابط البورصۃ، أن الذی ینتقل إلی المشتری عند العقد ھو ملک الأسھم فقط، أما القبض، فإنہ لایحصل إلا عند موعد التسلیم، ویدل علی ذلک دلائل آتیۃ:
(1)قبض کل شیئ یکون بحسبہ فی عرف ذلک الشیئ، کما تقرر فی الفقہ، وإن عرف البورصۃ والمتعاملین فیھا أنھم لایعتبرون الأسھم مسلّمۃ إلی المشتری إلا عند التسلیم الفعلی الذی یقع فی موعدہ، ویسمونھا تسلیماً (Delivery) وإن ھذا الاصطلاح فیہ تصریح بأن المشتری إنما یتسلم الأسھم عند ذلک، لا قبلہ، والتسلم ھو القبض إلخ(المبحث الثالث فی أحکام المبیع والثمن وما یشترط فیھما إلخ، بیع أسھم الشرکات، ج: 1، ص: 385۔386، ط: مکتبۃ معارف القرآن)۔
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0