السلام علیکم ، منگنی کے بعد استخارہ کرنا، جبکہ منگنی کو ایک سال ہونے کو ہے اور استخارہ کے بعد ایک نا معلوم خط کا وصول ہونا گھر پر ، کیا یہ استخارہ کا اشارہ ہے ؟ رہنمائی فرمائیں
سائلہ کا سوال واضح نہیں، تاکہ اس کو پڑھ کر اس کے مطابق حکم شرعی سے آگاہ کیا جاتا، تاہم اتنی بات ذہن نشین رہے کہ کوئی بھی اہم کام (نکاح وغیرہ) کرنے سے پہلے خاندان کے معزز اور تجربہ کار لوگوں سے مشورہ کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ استخارہ کرنا مسنون عمل ہے،چنانچہ مشورہ اور استخارہ کرنے کے بعد جس طرف قلبی رحجان ہوجائے تو اسی میں ان شاء اللہ تعالیٰ خیر ہوگی۔
تاہم سائلہ کو اگر خاص اس معاملہ میں رہنمائی مطلوب ہو تو سوال مکمل وضاحت کے ساتھ دوبارہ ارسال کردیں، ان شاء اللہ تعالیٰ غور وخوض کے بعد حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیا جائے گا۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَأَمۡرُهُمۡ شُورَىٰ بَيۡنَهُمۡ﴾ [الشورى: 38]
وفي مقام آخر: ﴿وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ ١٥٩﴾ [آل عمران: 159]
وفي سنن الترمذي: عن جابر بن عبد الله قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة» في الأمور كلها، كما يعلمنا السورة من القرآن. (1/ 490 ت بشار)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: «ثم المستحب دعاء الاستخارة بعد تحقق المشاورة في الأمر المهم من الأمور الدينية والدنيوية وأقله أن يقول: اللهم خر لي واختر لي ولا تكلني إلى اختياري». (8/ 3326)