اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔سلام کے بعد غرض یہ ہے کہ آجکل سٹاک ایکسچینج میں کونسی کمپنیوں کے حصص کی خرید وفروخت جائز ہے ۔۔کچھ کمپنیوں کے نام بتائیں تو شکر گزار ہونگے ۔والسلام
واضح ہوکہ اسٹاک ایکسچیینج میں شیئرز کی خرید و فروخت اگر درجِ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جائے تو اس صورت میں یہ بلاشبہ جائز اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز اور حلال ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں، اس کا اصل کاروبار حلال ہو۔
(2) اس کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثےبھی وجود میں آچکے ہوں، یعنی صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں، ورنہ فیس ویلیو کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید وفروخت جائز ہوگی۔
(3) ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو، بلکہ آمدنی سے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو۔
(4) نفع ونقصان دونوں میں شراکت ہو۔
(5) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے تو اس کی سالانہ میٹنگ میں سود کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔
(6) جب منافع تقسیم ہوں تو دیکھ لیا جائے کہ نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کردے۔
لہذا درج بالا شرائط کے ساتھ کسی بھی کمپنی کے شیئرز کا کاروبار جائز ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: احل اللہ البیع و حرم الربوا (البقرۃ: 275 الآیة)
و فی مرقاۃ المفاتیح: عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربوا و موکله و کاتبه و شاھدیه و قال: ھم سواء اھ (51/6)
وفی الشامیة: والحاصل انه ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل له ویتصدق به بنیة صاحبه وان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابه ولا شیئا منه بعینه حل له حکما والاحسن دیانة التنزہ عنه اھ
"قبض كل شیئ وتسليمه يكون بحسب ما يليق به۔" (کتاب الوقف: 5/ 248، ط:سعید)
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0