اس اشکال کا جواب مطلوب ہے کہ رفعِ یدین کی روایات مثبت ہیں اور ترکِ رفعِ یدین کی نافی ہیں , اور اصول کے تحت مثبت کو نافی پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ قاعدہ اپنی جگہ درست بھی ہو،مگر یہ متفقہ قاعدہ نہیں،بلکہ قاعدۂ خلافیہ ہے، اور خلافیہ ہونے کے علاوہ اتنا سادہ نہیں جتنا اس کو سمجھا گیا،بلکہ یہ اصول اس وقت ملحوظ ہوتا ہے جب نافی کسی دلیل پر مبنی نہ ہو یا مشتبہ الحال نہ ہو،اگر وہ کسی دلیل پر مبنی ہو تو پھر اس دلیل کا اعتبار ہوگا اور اس قاعدہ کا استعمال درست نہ ہوگا اور اگر نافی مبنی بردلیل ہو تو دیگر دلائل اور وجوہِ ترجیح کو دیکھا جائے گا،ورنہ دونوں ساقطُ الاعتبار ہوں گے(تفصیل کے لئے کتبِ اصول کی طرف مراجعت فرمائیں) مزید یہ کہ سائل نے مثبت اور نافی کا جو مطلب سمجھا وہ درست نہیں، اس لئے پہلے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ مثبت سے مراد وہ روایت ہے جو کسی نئی چیز کو ثابت کر رہی ہو،اگرچہ بظاہر اس میں سلب(نفی) کا معنیٰ ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح نافی سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی نئی چیز کی نفی کررہی ہو،اگرچہ بظاہر اس میں ثبوت کا معنی ہو، اس کے بعد واضح ہوکہ جن روایات میں رفع کا تذکرہ ہے تو وہ پہلے سے چلا آرہاتھا، اس میں واقعہ کی حکایت ہے،کسی نئی چیز کا ثبوت نہیں،بلکہ ترکِ رفع یدین کی نافی ہیں،اگرچہ بظاہر اس میں ثبوت کا معنی معلوم ہوتا ہے،جبکہ اس کے بالمقابل جن روایات میں ترکِ رفع یدین کا ذکر ہے،وہ روایات ایک نئی چیز(ترک رفع یدین) کو ثابت کر رہی ہیں، اس لئے ایسی روایات درحقیقت مثبت ہیں،نہ کہ نافی،البتہ انہیں ناسخ قرار دیا جاسکتا ہے، لہذا مذکور قاعدہ کی بنا پر ترکِ رفع یدین کی روایات کو رفع یدین کی روایات پر ترجیح حاصل ہوگی،جبکہ ترکِ رفع اوفق بالقرآن بھی ہے اور یہی احناف کا مذہب ہے۔
کما فی نورالانوار: والمثبت اولیٰ من النافی(الیٰ قوله)یعنی اذا تعارض المثبت والنافی فالمثبت اولیٰ بالعمل من النافی عند الکرخی وعند ابن ابان یتعارضان ای یتساویان فعند ذلك یصار الیٰ الترجیح بحال الراوی والمراد بالمثبت مایثبت امرا عارضا زائدا لم یکن ثابتا فیما مضی وبالنافی ماینفی الامر الزائد ویبقیه علیٰ الاصل(الیٰ قوله) والاصل فیه انه النفی ان کان من جنس مایعرف بدلیله بان کان مبنیا علی دلیل وعلامة ظاھرة ولایکون مبنیا علی الاستصحاب الذی لیس بحجة او کان مما یشتبه حاله(الیٰ قوله) کان مثل الاثبات الخ (ص/197/198) مبحث التعارض۔