السلام علیکم ! اگر ایک عورت جو کہ پانچ ماہ سے حاملہ ہو اور اب اسے مسلسل تھوڑے تھوڑے خون کے قطرے آرہے ہوں،تو اس صورت اس کے نماز پڑھنے اور قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
حالتِ حمل میں آنے والا خون استحاضہ اور بیماری کا ہے،اس لئے اس سے نماز، روزہ کے احکام متاثر نہیں ہوتے،لہذا مذکور خاتون وضو کرکے نماز اور دیگر عبادات بجا لاسکتی ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: ودم الحامل ليس بحيض، وإن كان ممتدا عندنا اھ(1/42)۔
وفیه ایضا: (وأما) حكم الاستحاضة فالمستحاضة حكمها حكم الطاهرات غير أنها تتوضأ لوقت كل صلاة على ما بينا اھ (1/44)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0