اگر کوئی عورت پانچ ماہ کی حاملہ ہو اور پھر اسے ہلکا ہلکا خون آنا شروع ہوجائے تو اس کے لئے نمازوں اور تلاوت کا کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ دورانِ حمل آنے والا خون حیض نہیں ،بلکہ استحاضہ ہوتا ہے،جو ادائیگی نماز وتلاوت سے مانع نہیں،البتہ اسے چاہیئے کہ ہر نماز اور تلاوت کے وقت وضو کیاکرے ،جبکہ اس خون کے آنے سے وضو ٹوٹ جاتاہے۔
کما فی الدر المختار: (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة) اھ (1/285)۔
وفیہ ایضاً: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) (الیٰ قوله) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت اھ(1/305)۔
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0