اگر مالک دکان کی غیر موجودگی میں ملازم کے ہاتھوں دُکان میں نقصان ہو جائے ، مثلاً چوری ہو جائے یا کوئی فراڈ کر کے ملازم سے دکان کی کیش لے لے ، اس صورت میں یہ نقصان دکان کا مالک پورا کرے گا یا ملازم ؟ اگر ملازم کے ہاتھوں نقصان ہو جائے مثلاً اس کے ساتھ فراڈ کے ذریعے رقم اس سے لے لی جائے اور ملازم یہ نقصان چھپا لے مالک کو پتہ نہ لگنے دے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
اگر یہ چوری ، فراڈ یا دھوکہ ملازم کی سستی ، کوتاہی اور لا پرواہی کیوجہ سے نہ ہو اور نہ اس میں ملازم کا کوئی عمل دخل ہو تو ایسی صورت میں ہونے والے نقصان کی ملازم پر کوئی ذمہ داری نہیں ، بلکہ مالک دوکان ہی اس نقصان کو برداشت کرے گا، بصورت دیگر ملازم ضامن ہوگا، جبکہ ملازم کا اس نقصان کو چھپانا اپنے فرض منصبی اور دیانتداری کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اس نقصان میں اس کے ملوث ہونے کا وہم پیدا کرتا ہے ،جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: وحكم أجير الوحد أنه أمين في قولهم جميعا حتى أن ما هلك من عمله لا ضمان عليه فيه إلا إذا خالف فيه والخلاف أن يأمره بعمل فيعمل غيره فيضمن ما تولد منه حينئذ هكذا في شرح الطحاوي اھ (4/ 500)
و فی شرح المجلة: الاجیر الخاص امین حتی لا یضمن المال الذي تلف في يده بغير صنعه ، وكذا لا يضمن المال الذي تلف بعمله بلا تعمد اھ (۲/ ۷۱۷)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0