کیا ایسی کمپنی میں کام کرنا حرام ہے جو ایسے ہسپتال کے لئے کام کرتی ہے جس کا الحاق ایک دوسرے ایسے ہسپتال کیساتھ ہے جس کا نام ایک جھوٹے خدا کے ساتھ رکھا گیا ہے، ان لوگوں کا اس نام کے انتخاب سے مقصد اس نام کی تعظیم ہے، اور کیا وہ کھانا حرام ہے جو مذکور کمپنی ملازمین کو فراہم کرتی ہے۔
کسی ہسپتال وغیرہ ادارہ کو جھوٹے خدا کا نام دینا اور جھوٹے کی تعظیم کرنا اگر چہ حرام ہے، مگر کام کرنے والے کی ملازمت اگر جائز امور پر مشتمل ہو تو اس کا تنخواہ لینا اور کھانا اگر حلال اور غیر اللہ کے نام نہ ہو تو اس کا کھانا بھی حلال ہے۔
كما في اعلاء السنن: مواجرة المسلم نفسه من الكافر (الی قوله)، وقال المهلب: كره أهل العلم ذلك إلا للضرورة بشرطين: أحدهما: أن يكون عمله فيما يحل للمسلم، والآخر: أن لا يعينه على ما هو ضرر على المسلمين اھ (۱۶/ ۱۹۹)
كما في الفتاوى الهندية: لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية اھ (5/ 348)
وفيها ايضا : ولا بأس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح وغيرها ويستوي الجواب بين أن يكون اليهود والنصارى من أهل الحرب أو من غير أهل الحرب وكذا يستوي أن يكون اليهود والنصارى من بني إسرائيل أو من غيرهم كنصارى العرب ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة فإن ذبيحتهم حرام اھ (5/ 347)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0