۱۔ جناب مفتی صاحب! تمام اماموں نے اجتہاد کرکے قرآن و سنت سے فقہ کی بنیاد رکھی ہے، ہمیں کس فقہ کی پیروی کرنی چاہیۓ؟
۲۔ کیا حضورﷺ نے اپنے آخری خطبے میں یہ فرمایا تھا کہ تم ہرگز نہ بھٹکو گے اگر تم دو چیزوں کو مضبوطی سے تھام لوگے ، ایک میری سنت اور دوسرا قرآن ، آپ ﷺ نے فقہ کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم نہیں دیا ، ہم قران و سنت سے زندگی گزاریں یا فقہ سے ؟ اھلِ حدیث کہتے ہیں کہ ہم صرف قرآن اور حدیث کی پیروی کرتے ہیں ، کیا یہ صحیح ہے؟ میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا تعلق کسی فرقے سے نہیں ہے ۔
فقہ ،قرآن و سنت کی صحیح سمجھ کا نام ہے ، قرآن و حدیث میں اس کو بڑی نعمت قرار دیا گیا ، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی سمجھ اور فقہ نصیب فرماد یتے ہیں ، اور ایک حدیث میں ہے کہ دو چیزیں منافق آدمی میں نہیں آسکتیں ، اچھے اخلاق اور فقہ فی الدین ، اس لۓ فقہ کو قرآن و سنت سے الگ چیز سمجھنا اور پھر اس پر معترض ہونا اور فقہ کے الفاظ کی تصریح کے ساتھ دلیل کا مطالبہ کرنا جہالت پر مبنی ہے اور پیغمبر کو اپنے الفاظ کا پابند کرنے کے مترادف ہے ، جبکہ غیر مقلدین کا یہ دعویٰ کہ ہم صرف قرآن و سنت کی پیروی کرتے ہیں ، در حقیقت ادلۂ شرعیہ، اجماعِ امت اور قیاسِ صحیح سے انکار پر مبنی ہے ، جو "کلمۃ حق ارید بہ الباطل" کا مظہر اور فقہاءِ امت کی بجائے ، لوگوں کو اپنی اتباع کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب۔