میں نے اکثر علماءکرام سے نبی کریم ﷺکی ایک حدیث سنی ہے جس میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا'میں علم کا گھر ، ابوبکرؓ اس کی بنیاد ،عمر فاروقؓ ا س کی دیوار، عثمان غنیؓ اس کی چھت اور علی المرتضیؓ اس کا دروازہ ہیں۔ الفاظ کچھ آگے پیچھے ہو سکتے ہیں، اللہ تبارک تعالیٰ معاف فرمائے ،لیکن اس کا مفہوم یہی ہے جو بیان کیا ہے ۔حضرت یہ حدیث شریف صحیح ہے ؟اور کس کتاب میں ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور حدیث اگر چہ کتب حدیث مثلاً: مرقات المفاتیح وغیرہ میں موجود ہے، مگر اس کے بارے میں علماء ِکرام نے کلام کیا ہے اور اس کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
کما فی مرقاة المفاتيح: وفي خبر الفردوس أنا مدينة العلم وأبو بكر أساسها وعمر حيطانها وعثمان سقفها وعلي بابها وشذ بعضهم الخ- (17 / 444)
و فی المقاصد الحسنة للسخاوي: عن ابن مسعود رفعه ( أنا مدينة العلم وأبو بكر أساسها وعمر حيطانها وعثمان سقفها وعلي بابها ) وعن أنس مرفوعا ( أنا مدينة العلم وعلي بابها ومعاوية حلقتها ) وبالجملة فكلها ضعيفة وألفاظ أكثرها ركيكة الخ- (1 / 170) واللہ أعلم بالصواب!
’’میں آلِ ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس کرتا ہوں‘‘ مضمون والی حدیث کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو اپنے والدین کی قبر جاؤ۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق اور عورت کا قبرستان جانا
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0حضورؐ سے حضرت خدیجہؓ کو ’’اپنی سوکنوں کو میرا سلام کہنا‘‘ ثابت یا نہیں؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میں بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا کرتا ہوں۔۔۔ الخ روایت کی تحقیق:
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 1’’ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ میری اُمت کو علماء اسلام سے نقصان پہنچےگا‘‘ روایت کی تحقیق
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘ حدیث کی تحقیق اور حضرت عائشہؓ کی وفات
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0صدیوں بعد پیدا ہونے والے محدثین کو حدیث کی صحت کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟
یونیکوڈ تحقیق و تخریج حدیث 0