السلام علیکم!
میں افغانستان میں ایک کینیڈین کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہوں، جو کہ نیٹو افواج کو سامان مہیا کرتے ہیں، باقی آپ کو معلوم ہے کہ نیٹو افواج یہاں کیا کام کر رہے ہیں ، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرا اس کمپنی کے ساتھ کام کرنا جائز ہے یا نا جائز؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں ۔
سائل کیلئے مذکور کمپنی میں اس وقت تک ملازمت اختیار کرنا جائز اور درست ہے، جب تک کمپنی اس کو براہِ راست اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کوئی کام نہ سونپے ،یا وہ کام حرامِ شرعی کے زمرے میں نہ آتا ہو، تا ہم سائل کی موجودہ ملازمت بھی چونکہ حمیتِ اسلامی اور دینی غیرت کے منافی ضرور ہے، اس لئے سائل کو اگر اس کے متبادل جائز ملازمت مل جائے تو اسے چھوڑ کر دوسری ملازمت اختیار کرنا بہر حال بہتر ہے۔
کمافي مشكاة المصابيح: عن أوس بن شرحبيل أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من مشى مع ظالم ليقويه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام" (3/ 113)۔
وفي تفسیر روح المعانى: قوله تعالى: ﴿وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ﴾ فيعم النهي كل ما هو من مقولة الظلم والمعاصي، ويندرج فيه النهي عن التعاون على الاعتداء والانتقام. (3/ 230)۔
وفي التفسير المظهرى: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا﴾ (إلی قوله) اللفظ عام فى كل من يؤذى « 1 » مؤمنا أو مؤمنة باىّ وجه كان وان كان المورد خاصّا اھ (ص: 3152)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0