آپ حضرات کی خدمت میں اٹھ سے زائد مرتبہ ’’ای میل‘‘ کر چکا ہوں ، لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرا داماد عیسائی مشرک ہو گیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ہمارے عیسیؑ اللہ کے بیٹے ہیں ۔کیا اسلام کے مطابق وہ واجب القتل ہے ؟
سائل کا داماد مذہب اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہوگیا ہے اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے، پھر ایسے شخص کی سزا اگر چہ قتل ہے، مگر اس کا اختیار عوام کو نہیں، بلکہ حکومت کو ہے ۔ اس لیے سائل کو چاہیے کہ وہ خود یا بذریعہ کورٹ اس کے اشکالات رفع کرنے کی کو شش کر ے ،پھر اگر اس کے اشکا لات ختم ہو جائیں اور وہ توبہ تائب ہو جائے تو بہت اچھا، ورنہ اپنی بیٹی کو اس سے الگ کر دے اور علیحدگی کے وقت سے ایّام عدت گزار کر کسی بھی دوسرے مسلمان مرد کے ساتھ اس کا نکاح کرواسکتاہے ۔
و فی الدر المختار: (من ارتد عرض) الحاكم (عليه الإسلام استحبابا) على المذهب لبلوغه الدعوة (وتكشف شبهته) بيان لثمرة العرض (ويحبس) وجوبا وقيل ندبا (ثلاثة أيام) (الی قولہ) (فإن أسلم) فيها (وإلا قتل) لحديث «من بدل دينه فاقتلوه۔(4 / 225)
و فی الهداية: " وإذا ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق " اہـ- (1 / 215)واللہ أعلم بالصواب!