میں آپ سے ان تنخواہوں کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں،جو ہم اپنے ملازموں کے ذریعہ حاصل کرتےہیں،میرے حساب سے ہماری تنخواہ ہماری محنت کی وجہ سے ہے، اگر میں اپنے کام کرنے کی جگہ آرام کروں اور اپنا کام دوسرے ملازم کے سپرد کروں اور کام پورا بھی ہوجائے، تو کیا وہ تنخواہ میرے لئے حلال ہوگی یا حرام؟
اگر اس کام کو خود کرنا لازم ہو تو اپنے ذمہ کے کام کو دوسروں سے کروا کر تنخواہ خود لینا اگر ایک آدھ مرتبہ ہو ،جوکہ عرفاً بھی قابلِ اعتراض نہیں سمجھا جاتا،درست ہے، تاہم اس کا معمول بنا کر اپنی تمام ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار:(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا" اھ(6/769)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0