السلام علیکم !"نقشبندیہ اویسیہ " مولانا یاد والی کا عقیدہ کے بارے میں بتا دیں کہ آیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں ؟مجھے اصل تشویش ان کے ذکر کے طریقے میں ہے، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ ذکر اونچی آواز میں کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہےاور اس کے علاوہ جو جماعت کی شکل میں ذکر کرتے ہیں یہ بھی کہیں سے ثابت نہیں ہے، بلکہ بدعت میں آتاہے تو مہربانی کرکے مجھے اس کے بارے میں جواب دیں۔
اگر چہ ذکر بالجہر جائز اور بعضے مشائخ طریقت کا معمول ہے، اسے بدعت کہناتو قطعاً درست نہیں، خواہ یہ انفرادی ہو یا اجماعی طور پر ،تاہم اس دوران اتنا لحاظ رکھناضروری ہے کہ قریب میں کھڑے کسی نماز ی یا تلاوت کرنے والے یادیگر عبادات میں مشغول یا مریض وغیرہ کے لیے باعث تشویش واذیت نہ ہو ،بلکہ ایسی صورت میں آہستہ آواز سے (جو دوسروں کی عبادت میں خلل نہ ڈالے )ذکر کر نا چاہیے کہ اس سے بھی پورا اجر ملتا ہے ۔
فی سنن الترمذي: عن أبي سعيد الخدري قال: خرج معاوية إلى المسجد فقال ما يجلسكم؟ قالوا جلسنا نذكر الله قال الله ما أجلسكم إلا ذاك ؟ قالوا والله ما أجلسنا إلا ذاك قال أما أني ما أستحلفكم تهمة لي وما كان أحد بمنزلتي من رسول الله صلى الله عليه و سلم أقل حديثا عنه مني إن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج على حلقة من أصحابه فقال ما يجلسكم ؟ قالوا جلسنا نذكر الله ونحمده لما هدانا للإسلام الخ- (5 / 460)
و فی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ إلخ- (1 / 660)
و فیہ أیضاً: وهناك أحاديث اقتضت طلب الإسرار، والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال كما جمع بذلك بين أحاديث الجهر والإخفاء بالقراءة ولا يعارض ذلك حديث «خير الذكر الخفي» لأنه حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام، فإن خلا مما ذكر؛ فقال بعض أهل العلم: إن الجهر أفضل لأنه أكثر عملاالخ- (1 / 660) واللہ أعلم بالصواب!