بھائی جان میں نے 25 جون 2012 کو اپنی بیوی کو فون کر کے کہا کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں “ اور میں نے یہ سب ہوش میں کہا اور میری نیت تھی کہ میں تین طلاق دے رہا ہوں اور اس معاملہ کو ہمیشہ کےلیے ختم کر رہا ہوں ۔ پھر اس کے بعد بھی میں نے اپنی بیوی سے رجوع نہیں کیا۔ اس بات کو تین ماہ اور پندرہ دن اوپر ہو گئےہیں۔ کیا یہ تین طلاقیں ہو گئی ہیں ؟
جی ہاں سائل نے جس دن اور تاریخ کو فون کر کے بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں اس دن سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا ،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ شادی و نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
کمافی الھندیة:وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج (1 /355)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0