میں یہ سوال پہلے بھی ! پوچھ چکا ہوں، لیکن اب تک جواب نہیں ملا کہ ٹی وی پر ایک مشہور عالم نے جن کا تعلق کراچی سے ہے یہ فتوی دیا ہے کہ پرائز بانڈ پر انعام دو وجوہات کی وجہ سے جائز ہے ۔
(1) : خرید و فروخت دونوں صورتوں میں قیمت مختلف حالت میں ہوتی ہے اور یہ جوا نہیں ہے ۔ (2): اس کا انعام متعین نہیں اور جیت کی صورت میں ملتا ہے اس کے علاوہ نہیں، اس لیے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک پرائز بانڈ دس یا زائد سالوں تک ہمارے پاس رہے ،لیکن اسی سابقہ قیمت پر فروخت ہوں بغیر کسی نفع کے تو یہ سود میں نہیں آتا ۔
(3) اگر حکومت اس طرف توجہ نہ دے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ لوگ اس اسکیم میں حصہ لے سکیں، جبکہ آپ یہ فتوی دے چکے ہیں کہ پرائز بانڈ پر انعام حرام ہے۔ اس بات سے مسلمانوں میں پریشانی پائی جا رہی ہے۔ کیا آپ پرائز بانڈ پر موجود فتوی دہرائیں گے ۔ جلد سے جلد جواب کے منتظر
پرائز بانڈ کی رقم در حقیقت حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ’’پرائز بانڈز‘‘ والے ہر شخص سے اس کے دیے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن پرائز بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی بہر حال یہ بات طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی ، اگر وہ ایسا نہ کرے تو ’’ پرائز بانڈز‘‘ رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا نہ صرف مطالبہ کر سکتا ہے ، بلکہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے ۔ چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے ’’ پرائز بانڈز‘‘ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈز کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں ہوتی ، جب چاہیں وصول کر سکتے ہیں۔ اب یہ بھی سمجھ لیجیے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورتِ انعام جو کچھ ملتا ہے، وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے۔ جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث وفقہ کی روشنی میں ناجائز اور سود ہے ۔ اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا نا جائز اور حرام ہے ۔ جتنے روپے کا پرائز بانڈ ہے اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں، زائد نہیں ۔ اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈز پر ملنے والی رقم حاصل کرلی ہو، تو چونکہ وہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور مال حرام کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا مالک معلوم ہو تو اسے اصل مالک تک پہنچانا ضروری ہے، اگر اصل مالک معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچانا متعذر ہو تو اسے مالک کی طرف سے ’’ بغیر بتائے‘‘ بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے، لہذا وہ رقم بلا نیت ثواب صدقہ کر دی جائے ۔
قال الله تعالى : {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0