میں کمپنیوں کے لیے لکھنے کا کام کرتا ہوں،میرے گاہک زیادہ تر غیر ملکی کمپنیاں ہیں، وہ مجھ سے اپنے لئے مضامین، کالم لکھواتے ہیں۔ اگر وہ مضامین نا جائز چیزوں پر ہوں جیسے کریڈٹ کارڈ انشورنس اور شراب خانے وغیرہ پر ہو تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
کیا میں ایسا کر سکتا ہوں کہ اس طرح کے کام کسی کرسچن (عیسائی) سے ہی کروا کر اپنے گاہک کو دیا کروں اور حاصل ہونے والا منافع اپنے پاس نہ رکھوں بلکہ صدقہ کردوں؟
کیا سرے سے منع کر دینا ضروری ہے؟
یا اس کے علاوہ کوئی اور صورت ہے تو بتا دیں۔
نفس شراب خانے یا انشورنس وغیرہ پر کوئی مضمون لکھنا ممنوع نہیں اور اس پر معاوضہ لینا بھی جائز ہے مگر نا جائز امور پر ترغیبی اور ایسے مضامین لکھنا جس سے گناہ پر ابھارنا مقصود ہو جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى: "ولا تعاونوا على الإثم والعدوان" نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى اھ (3/ 296) واللہ اعلم بالصواب
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0