میں ایم بی بی ایس کے پہلے سال کی طالبہ ہوں، مجھے یہاں میرے والدین نے زبر دستی بھیجا ہے۔ پہلے مجھے لگا تھا کہ میں کر لونگی لیکن اب کالج جا کے مجھے احساس ہوا ہے کہ میں بہت گناہوں میں پھنس گئی ہوں ۔ یہاں پر بہت فتنہ ہے جیسے کہ نامحرم کو دیکھنا، ان سے بات کرنا ایسی تصاویر دیکھنا جو حیاء کےدائرے سے باہر ہیں۔ اپنے والدین سے ایک دفعہ بات کی مگر انہوں نے منع کر دیا اور ڈانٹ کر تم ہماری نافرمانی کر رہی ہو کیا مجھے ان حالات میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے ؟ اگر ماں باپ کے خلاف بولوں تو کیا میں گہنگار ہونگی ؟
حدود شرع میں رہتے ہوئے پردے کی پابندی کے ساتھ ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنا بھی جائز اور درست ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ،البتہ اگر سائلہ سمجھ رہی ہےکہ حدود شرع میں رہ کر یہ تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں، بلکہ حرام میں ابتلاء کا قوی اندیشہ ہے، تو اس کو چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ،اور اس کی وجہ سے والدین کی نافرمانی کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔
ففي مشكاة المصابيح: عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان» . رواه الترمذي اھ (2/ 935)۔
و في الدر المختار: (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) اھ (1/ 406) واللہ اعلم بالصواب