کیا بچوں کی پیدائش میں وقفہ ہر لحاظ سے حرام ہے؟ اگر ہم صحیح طرح بچوں کی تربیت نہ کر پا رہے ہوں، تو ہم بچوں کی پیدائش میں وقفہ کر سکتے ہیں؟ تفصیل سے جواب دیں، اللہ آپ کو اجر دے۔ امین!
کسی بھی غرضِ صحیح اور جائز مقصد کے لیے دو بچوں کے درمیان عارضی طور پر وقفہ کرنا، جب کوئی مسلمان ماہر ڈاکٹر بھی اس کا مشورہ دیتا ہو جائز اور درست ہے، تاہم بلاوجہ یا پرورش کے خوف سے مانع حمل کی کوئی ایسی تدبیر اختیار کرنا جس سے بچوں کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع ہو جائے ،جائز نہیں ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
في رد المحتار: مطلب في حكم اسقاط الحمل: [تنبيه] أخذ في النهر من هذا ومما قدمه الشارح عن الخانية والكمال أنه يجوز لها سد فم رحمها كما تفعله النساء (3/ 176)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: أما ما يبطئ الحبل مدة، ولا يقطعه من أصله، وهو المعروف بتنظيم الحمل، فلا يحرم، بل إن كان لعذر كتربية ولد، لم يكره أيضاً اھ (4/ 2649)