السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عرض یہ ہے کہ ایک عورت جس کو تین طلاقیں ہوجاتی ہے، اور اس کا شوہر اس کے سگے تائے کا لڑکا ، سگی خالہ کا لڑکا اور ان میں سے چار بچے جن میں سے ایک نابالغ اور تین بالغ اور ان دونوں میاں بیوی کی پیدائش ایک ہی گھر میں ہوئی ایک ہی جگہ پلے پڑھے اور شادی ہوئی،اب وہ عورت اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے اور کسی ضروری کام کے لئے اپنے سابقہ شوہر سے مشورہ کر سکتی ہے، یا پھر سختی کے ساتھ اس شوہر کے سامنے بھی نہیں جاسکتی، اور بات بھی نہیں کر سکتی ، مہربانی فرما کر اس مسئلہ کا حل فرمائیں، کیا میاں بیوی ( طلاق شدہ ) اپنے بچوں کے مستقبل( شادی اور دیگر حالات ) کے لئے بچوں کے ہمراہ شوہر کے ساتھ بیٹھ کر مشورہ کر سکتی ہے یا نہیں، یاد رہے کہ اس عورت کی عدت بھی گزر چکی ہے۔
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق ہوجانے کے بعد وہ ایک دوسرے کے لئے اجنبی بن جاتے ہیں ان کا حسب سابق ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں میاں بیوی کے درمیان تین طلاقیں ہوجانے کے بعد ان کے لئے ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا یا بغیر پردے کے ایک دوسرے کے ساتھ میل جول رکھنا یا غیر ضروری بات چیت کرنا جائز نہیں، البتہ پردہ شرعی کی رعایت اور لحاظ رکھتے ہوئےمرد وعورت کے لئے بچوں کے متعلق ایک دوسرے سے مشاورت کرنے کی گنجائش ہے۔
کما فی ردالمحتار: (قوله: ولا بد من سترة بينهما في البائن) وفي الموت تستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها هندية. وظاهره أن لا سترة في الرجعي، وقول المصنف الآتي: ومطلقة الرجعي كالبائن يفيد طلب السترة فيه أيضا، ويؤيده ما تقدم في باب الرجعة أنه لا يدخل على مطلقة إلا أن يؤذنها الخ (ج3 ص537 مطلب فی المنعی الیھا زوجھا باب العدۃ ط سعید)۔
وفی الھندیۃ: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها(الی قولہ) وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير.الخ (ج1ص 541 الباب السادس عشر فی الحضانۃ ط ماجدیہ)۔