میں نے یہ پتہ کرنا ہے کہ رائیل اسٹیٹ (جائیداد) کا کام شرعاً جائز ہے یا نہیں، اور اگر ٹھیک نہیں ہے، تو اس کی کیا کیا وجوہات ہیں؟
رائیل اسٹیٹ کا کام شرعاً جائز اور درست ہے، بشرطیکہ اجرت متعین اور معلوم ہو اور جائیداد کی خرید و فروخت میں ایجنٹ کا کوئی کردار بھی شامل ہو ۔
ففي الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (4/ 560)۔
و في حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين. (4/ 560)۔
وفيه ايضا : مطلب في أجرة الدلال [تتمة] قال في التتارخانية: و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام اھ (6/ 63)-
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0