اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دیدے تو کیا یہ ایک ہی مجلس کی طلاق شمار ہوگی ؟ہم نے پڑھا ہے کہ اگر ایک شخص ایک وقت میں تین دفعہ طلاق دیدے بغیر وقفہ کے , تو طلاق نہیں ہوتی ۔
قرآن وسنت کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی گئی ہوں جیسے تجھے "تین طلاق ہے "یا الگ جملوں سے دی گئی ہو ں جیسے تجھے طلا ق ہے ،تجھے طلاق ہے ،تجھے طلاق ہے "وغیرہ بہر صورت قرآن وسنت کی روشنی میں باتفاقِ ائمۂ اربعہ اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اور تین ہی طلاقیں شمار ہوتی ہیں ،اس پر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ،امام مالک, امام شافعی ,امام احمد اور حضرات صحابہ کرام اور تابعین کا اجماع ہے لہذا تین طلاقیں ایک ہی وقت میں دینے کے بعد یہ کہنا کہ اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی , قطعاً غلط اور خلافِ شریعت ہے اس سے احتراز لازم ہے ۔
قال تعالی:{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
وفی صحیح البخاری :وقال اللیث عن نافع عن ابن عمر اذا سئل عمن طلق ثلاثاً قال لو طلقت مرۃ او مرتین فان النبی ﷺ امرنی بھذا فان طلقت ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ اھ (2/792)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0