میں شریعت کے مطابق ہوٹل بزنس کرنا چاہتا ہوں، میں نے ایک. بلڈنگ خریدا ہے ،اور اس کو لوگوں کو کرایہ پر دینا چاہتا ہوں کم وقت کیلئے،تو ایسا کم وقت کے لئے دے کر کرایہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
سائل نے جو بلڈنگ ہوٹل بنانے کے قصد سے خریدی ہے، اس کو کم و بیش وقت کیلئے کرایہ پر دیکر نفع حاصل کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين كذا في المضمرات (4/ 415) والله اعلم بالصواب!
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0