ہمارے ایک رشتہ دار ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی ، اس لیے میں انہیں نہیں مانتا ،وہ ان کی گستاخی اور بے ادبی بھی کرتا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا اور رشتہ داری کی تعظیم کرنا کیسا ہے؟ اور اگر واقعی ان دونوں صحابہ کے درمیان جنگ ہوئی تھی تو اس کی وجہ کیا تھی اور کن حالات میں ہوئی تھی ؟
حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں جلیل القدر صحابی رسول ہیں اور احادیث مبارکہ میں ان کے مناقب و فضائل وارد ہوئے ہیں ،دونوں ہی ہمارے بڑے اور ہمارے مقتدی ہیں، ان کے باہمی اختلاف کو بنیاد بنا کر کسی شخص کا ان میں سے کسی کو برا کہنا ہرگز جائز نہیں، بلکہ سخت گناہ کی بات ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جو جنگ صفین ہوئی اس کی من جملہ وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ساتھی صحابہ پہلے خلافت کا قیام چاہتے تھے ، بعد ازاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو گرفتار کر کے سزا دلانا چاہتے تھے، جبکہ حضرت امیر معاویہؓ اور ان کے ہمراہ صحابہ اس کے برعکس چاہتے تھے، پھر درمیان کے بعض شریروں کی غلط فہمیاں پھیلانے کی وجہ سے جنگ ہوئی۔
كما في سنن الترمذي: عن أبي إدريس الخولاني، قال: لما عزل عمر بن الخطاب عمير بن سعد عن حمص ولى معاوية، فقال الناس: عزل عميرا وولى معاوية، فقال عمير: لا تذكروا معاوية إلا بخير، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «اللهم اهد به» اھ (5/ 687)۔
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر - رضي الله عنهما - قال: «آخى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بين أصحابه، فجاء علي تدمع عيناه، فقال: آخيت بين أصحابك، ولم تؤاخ بيني وبين أحد. قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: (أنت أخي في الدنيا والآخرة) » رواه الترمذي اھ (9/ 3938)
وفي البزازية: ولا يجوز اللعن على معاويه ، لانه خال المومنين وكاتب الوحى اھ (۶/ ۳۴۴)۔