ہرمسلمان کی دلی خواہش ہے کہ وہ حضرت محمدﷺ کے زمانہ میں ہوتا اور آپﷺ کی زیارت کرتا اور آپﷺ سے ہم کلام ہونے کی سعادت حاصل کرتا، لیکن اب ایسا ممکن نہیں، کیونکہ آپﷺ دنیا سے پردہ فرماگئے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے دل کو سکون دینے کیلیے دل میں خیال لائے کہ وہ آپﷺ کے زمانہ مبارک میں چلاگیا ہے اور آپﷺ کی بارگاہ میں بیٹھا ہے اور آپﷺ اس سے گفتگو فرمارہے ہیں اور وہ انسان اپنے ان خیالات کو اشعار کی صورت میں لکھنا چاہے تو کیا وہ لکھ سکتا ہے؟ شریعت اجازت دیتی ہے اس بات کی؟
آپﷺ کے زمانے اور مجلس کا تصور کرنا اور اسے خیال میں لاکر اشعار کی صورت میں پیش کرنا درست ہے، مگر اسمیں بھی غلط بیانی سے احتراز لازم ہے اس لیے آپﷺ پر جھوٹ باندھنا آخرت کی بربادی کا باعث ہے۔
ففي صحیح المسلم: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار» اھ (۱/۷)۔
وفي الفتاوی الشامية: أن المحرم منه ما كان في اللفظ ما لا يحل كصفة الذكور والمرأة المعينة الحية ووصف الخمر المهيج إليها والحانات والهجاء لمسلم أو ذمي إذا أراد المتكلم هجاءه، لا إذا أراد إنشاد الشعر للاستشهاد به أو ليعلم فصاحته وبلاغته اھ (۱/۴۷) ـــــ واللہ أعلم!
حضورؐ سے ملاقات کا تصور کرنا اور ان خیالات کو اشعار میں بیان کرنا، شرعاً کیسا ہے؟
یونیکوڈ شعر و شاعری 0کسی بزرگ کے اعزاز میں منعقدہ محفلِ قوالی میں شرکت کرنے اور اس میں نذر و نیاز کا حکم
یونیکوڈ شعر و شاعری 0نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی منقبت میں کہے گئے شعر ’’اَکھیاں ماہی دیا شرابی‘‘ کا مطلب
یونیکوڈ شعر و شاعری 0