کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بزرگ (اولیاء کرام ) وغیرہ کے لیے جومحفل منعقد کی جا رہی ہے ، جس میں کسی بزرگ ، دین دار یا یوں کہیں کہ کسی واسطے سے کسی بزرگ سے ہمیں عقیدت ہو ، ان کو مدعو کیا جائے اور ان کے اعزاز میں محفل کا اہتمام کیا جائے اور اس محفل میں (صوفیانہ کلام) قوالی کے انداز میں کہا جائے اور محفل کے اختتام پر کچھ شیرینی یا کھانے پینے کا اہتمام کیا ہو ، جیسے نیاز وغیرہ ، ہم اس میں شرکت کرنا چاہیں تو کہاں تک ٹھیک ہے؟
۲۔ ہم اپنے گھروں میں اپنے والد یا والدہ مرحومہ کی فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور قرآن پڑھ کر اپنے مرحومین کو بخشتے ہیں اور اسی طرح شرکا ء کو کھانا کھلاتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
ایسی مجالس عموماً ساز باجے اور قوالیوں کے اکثر کفر و شرک پر مبنی مضامین سے خالی نہیں ہوتیں، نیز آنے والے نیک سیرت مہمان کی خاطر اس قسم کی مجالس کا قیام قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے قطعاً ثابت نہیں، لہٰذا یہ محض بدعت ہے جس سے احتراز لازم ہے ، اور اولیاء اللہ وہ ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ یاد آجائیں، نہ وہ کہ جنہیں دیکھنے پر ساز، باجے یاد آجائیں۔
نیز مروّجہ قرآن خوانی بھی کئی منکرات پر مشتمل ہونے اور قرونِ ثلاثہ سے کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بدعت کے زمرے میں آتی ہے، اس کے بجائے بہتر ہے کہ انفرادی طور پر قرآن خوانی، نماز ، روزہ وغیرہ عبادات کر کے اس کا ثواب بخشاجائے۔
فی الدر : و في السراج و دلت المسألة أن الملاهي كلها حرام و يدخل عليهم بلا إذنهم لإنكار المنكر قال ابن مسعود صوت اللهو و الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت : و في البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب و نحوه حرام لقوله عليه الصلاة و السلام «استماع الملاهي معصية و الجلوس عليها فسق و التلذذ بها كفر»أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه - عليه الصلاة والسلام - أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه»اھ (۶/۳۴۹)
و في رد المحتار : قلت : و في التتارخانية عن العيون إن كان السماع سماع القرآن و الموعظة يجوز ، و إن كان سماع غناء فهو حرام بإجماع العلماء و من أباحه من الصوفية ، فلمن تخلى عن اللهو ، و تحلى بالتقوى ، و احتاج إلى ذلك احتياج المريض إلى الدواء. و له شرائط ستة : أن لا يكون فيهم أمرد ، و أن تكون جماعتهم من جنسهم ، و أن تكون نية القول الإخلاص لا أخذ الأجر و الطعام، و أن لا يجتمعوا لأجل طعام أو فتوح، و أن لا يقوموا إلا مغلوبين و أن لا يظهروا وجدا إلا صادقين.
و الحاصل : أنه لا رخصة في السماع في زماننا لأن الجنيد - رحمه الله - تعالى تاب عن السماع في زمانه اهـ و انظر ما في الفتاوى الخيرية اه(6/ 349)۔
و فی الشامیة : و الاستئجار على التلاوة و إن صار متعارفا فالعرف لا يجيزه لأنه مخالف للنص ، و هو ما استدل به أئمتنا كصاحب الهداية و غيره من قوله عليه الصلاة والسلام «اقرءوا القرآن و لا تأكلوا به» و العرف إذا خالف النص يرد بالاتفاق فاحفظ ذلك و لا تكن ممن اشترى بآيات الله ثمنا قليلا و جعلها دكانا يتعيش منها اھ( ۶/۶۹۱)۔
و فی حاشية ابن عابدين : و في البزازية : و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم ، و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. و فيها من كتاب الاستحسان : و إن اتخذطعاما للفقراء كان حسنا اهـ و أطال في ذلك في المعراج. و قال : و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. (2/ 240، 241)۔