ارتداد اورگستاخ رسول کی سزا کیا ہے ؟ میں نے کہیں پڑھا ہے گستاخ رسول کی سزا موت ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہیں،ہر حال میں اسے قتل کیا جاوے گا ،کیونکہ اس نے بہت ناقابل برداشت کا م کیا ہے ،کیایہ سچ ہے؟
(1)۔ مرتد،دین اسلام کو ترک کرنے اورغیر اسلامی مذہب کو اختیار کرنے کی وجہ سے بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، ایسے شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے اور عدالت کو چاہیے کہ اسے اسلام کی دعوت دے، اس کے شکوک وشبہات کودور کرے، اگر پھر بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور کفر پر رہنے کو ترجیح دے تو وہ شرعاًباغی ہے اور باغی کی سزا تمام مروجہ قوانین میں قتل ہے توعدالت اسے قتل کروا سکتی ہے، یہی اس کی سزا ہے۔
(2)۔ جو شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو اور یہ حرکت قصداً کی ہو تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے نکل کر شرعاً مرتد ہو جاتا ہے، اگر وہ اپنی اس قبیح و شنیع حرکت پر ندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ واستغفار کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہوجائے تو بہتر ہے، ورنہ اسے مرتد ہونے کی بناء پر قتل کر دیا جائے اور یہی اس کی سزا ہے، مگر قتل کرنے کا اختیار عام عوام کو ہر گز حاصل نہیں ،بلکہ مسلمان حاکم اور قاضی کو ہے اور عوام صرف اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتی ہے اور کورٹ واقعہ کی مکمل تحقیق کے بعد اسے قرار واقعی سزادے، تاکہ دوسروں کیلیے بھی وہ نشان ِعبرت بنے اور عوام قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور نہ ہوں ۔
کما فی الفتاوى الهندية: المرتد عرفا هو الراجع عن دين الإسلام( إلی قولہ) إذا ارتد المسلم عن الإسلام والعياذ بالله عرض عليه الإسلام، فإن كانت له شبهة أبداها كشفت إلا أن العرض على ما قالوا غير واجب بل مستحب كذا في فتح القدير ويحبس ثلاثة أيام فإن أسلم وإلا قتل هذا إذا استمهل، فأما إذا لم يستمهل قتل من ساعته ولا فرق في ذلك بين الحر والعبد كذا في السراج الوهاج وإسلامه أن يأتي بكلمة الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام- (2 / 253)
ففی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله وقد صرح في النتف إلخ) وأيما رجل مسلم سب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أو كذبه أو عابه أو تنقصه فقد كفر بالله تعالى وبانت منه امرأته، فإن تاب وإلا قتل اہ(4/ 234)
و فی الفقه الإسلامي وأدلته : ولا یقتل المرتد إلا الإمام أو نائبہ فإن قتل قتلہ اھد بلاإذنہما اساء و عزر الخ (۶/۱۸۸)
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر و (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا،- (4 / 231)
و فی حاشية ابن عابدين: وحاصله أنه نقل الإجماع على كفر الساب، ثم نقل عن مالك ومن ذكر بعده أنه لا تقبل توبته. فعلم أن المراد من نقل الإجماع على قتله قبل التوبة. ثم قال: وبمثله قال أبو حنيفة وأصحابه إلخ أي قال إنه يقتل يعني قبل التوبة لا مطلقا (4/ 232) واللہ أعلم بالصواب!