تزکیہ نفس و تصوف

گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
26058
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / عملیات و اذکار / تزکیہ نفس و تصوف

گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ

مفتی صاحب! میں چاہتا ہوں کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچاؤں، مجھ سے اکثر گناہِ کبیرہ ہو جاتا ہے، پھر میں بہت پریشان اور غمگین ہوتا ہوں، گناہ سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟ تاکہ مجھ سے اللہ راضی ہو جائے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

گناہ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ سائل قرآن و حدیث میں جو عذاب کے ڈراوے اور وعیدیں گناہوں پر آئی ہیں، مثلاً ”گنہگاروں کیلئے موت کی سختی، عذابِ قبر، میدانِ محشر میں سب کے سامنے رسوائی اور جہنم کے طرح طرح کے عذاب کا ہونا“ انہیں ہر وقت یاد کرے اور سوچے، اس کے علاوہ مندرجہ ذیل شرائط کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے:-
1-جو گناہ ہو چکا اس پر نہایت سچے دل سے شرمندہ اور پشیمان ہو کر، کچھ ندامت کے آنسو بہائے، کہ”اے اللہ! مجھ جیسے حقیر بندہ سے ایسی ذات پاک کی نافرمانی ہو گئی، جو سب سے بڑی ہے اور سب کو پیدا کر نے والی ہے۔
2- نہایت پختہ عزم کرے کہ آئندہ کیلئے ایسانہیں کروں گا، سزا کے طور پر اگر اپنے اوپر کوئی مالی جرمانہ عائد کرے تو توبہ میں تقویت ہو گی۔
3-اگر گناہ ایسا ہو جس میں حقوق اللہ یا حقوق العباد تلف کئے ہوں، تو ان کی تلافی کرے، اس کے ساتھ ساتھ استغفار اور دوسرے نیک کاموں کا کثرت سے اہتمام بھی کرے۔
اس کے علاوہ اپنے علاقہ میں کسی اللہ والے بزرگ سے اصلاحی تعلق قائم کرے، ان کی مجلس و بیان میں بیٹھا کر ے، ان کے بتائے ہوئے وظائف اور معمولات کو بجالائے اور انہیں اپنے حالات سے آگاہ کرتا رہے، ان شاء اللہ چند دن کے اندر خود بہ خود گناہ چھوٹ جائیں گے۔
قال تعالٰى: {يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَاللّٰهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ} [آل عمران: ۳۰]
ترجمہ: جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی پائے گا اور ان کی برائی کو بھی دیکھ لے گا، تو آرزو کرے گا اے کاش! اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہو جاتی اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہر بان ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي صحيح مسلم: عن ‌أبي بردة قال: سمعت ‌الأغر ، وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يحدث ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أيها الناس توبوا إلى الله فإني أتوب في اليوم إليه مائة مرة". (2/346)
وفي مشكاة المصابيح: وعن علي رضي الله عنه قال: حدثني أبو بكر وصدق أبو بكر. قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما من رجل يذنب ذنبا ثم يقوم فيتطهر ثم يصلي ثم يستغفر الله إلا غفر الله له ثم قرأ هذه الاية: (والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم) رواه الترمذي وابن ماجه إلا أن ابن ماجه لم يذكر الآية اھ (1/117)
وفي شرح النووي على مسلم: والمراد بالتوبة هنا الرجوع عن الذنب وقد سبق في كتاب الإيمان أن لها ثلاثة أركان الإقلاع والندم على فعل تلك المعصية والعزم على أن لايعود إليها أبدا فإن كانت المعصية لحق آدمي فلها ركن رابع وهو التحلل من صاحب ذلك الحق وأصلها الندم وهو ركنها الأعظم واتفقوا على أن التوبة من جميع المعاصي واجبة وأنها واجبة على الفور لايجوز تأخيرها سواء كانت المعصية صغيرة أوكبيرة اھ (2/354)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 26058کی تصدیق کریں
0     896
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • قوالی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • کس سے اصلاحی تعلق قائم کیا جائے؟

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 1
  • میاں بیوی میں سے ہر ایک کا الگ الگ پیر سے بیعت ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • گناہوں سے معافی کاطریقہ

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • ذکر و اذکار اور وظائف کے لئے شیخ کی اجازت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • کسی ولی کی روح سے فائدہ پہنچنےکا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • فنافی الرسول کا کیا مطلب ہے

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
Related Topics متعلقه موضوعات