تزکیہ نفس و تصوف

کسی ولی کی روح سے فائدہ پہنچنےکا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
50279
| تاریخ :
عبادات / عملیات و اذکار / تزکیہ نفس و تصوف

کسی ولی کی روح سے فائدہ پہنچنےکا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

انتقال کے بعد کسی ولی کی روح سے فائدہ پہنچنےکا عقیدہ رکھنا شرعا کیساہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاننا چاہیے کہ جو استعانت و استمداد با لمخلوق باعتقاد علم و قدرت مستقل مستمد منہ ہو شرک ہے اور جو باعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو مگر وہ علم و قدرت کسی دلیل صحیح سے ثابت نہ ہو معصیت ہے اور جو باعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو اور وہ علم و قدرت کسی دلیل سے ثابت ہو جائز ہے، خواہ وہ مستمد منہ حی ہو یا میت اور جو استمداد بلا اعتقاد علم و قدرت ہو نہ مستقل نہ غیر مستقل ، پس اگر طریق استمداد مفید ہو تب بھی جائز ہے جیسے، استمداد بالنار والماء والواقعات التاریخیہ ورنہ لغو ہے۔
یہ کل پانچ قسمیں ہیں: پس استمداد ارواح مشائخ سے صاحب کشف الارواح کے لیے قسم ثالث ہے اور غیر صاحب کشف کے لیے محض ان حضرات کے تصور اور تذکر ہ سے قسم رابع ہے، کیونکہ اچھے لوگوں کے خیال کرنے سے ان کو اتباع کی ہمت ہوتی ہے اور طریق مفید بھی ہے اور غیر صاحب کشف کے لیے قسم خامس ہے۔ (ماخوذ از امداد الفتاوی 369/5) ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی : {إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ (14)} [فاطر: 14]
و فی تفسير الألوسي = روح المعاني : الثاني أن الناس قد أكثروا من دعاء غير الله تعالى من الأولياء الأحياء منهم والأموات وغيرهم، مثل يا سيدي فلان أغثني، وليس ذلك من التوسل المباح في شيء، واللائق بحال المؤمن عدم التفوه بذلك وأن لا يحوم حول حماه، وقد عدّه أناس من العلماء شركا وأن لا يكنه، فهو قريب منه ولا أرى أحدا ممن يقول ذلك إلا وهو يعتقد أن المدعو الحي الغائب أو الميت المغيب يعلم الغيب أو يسمع النداء ويقدر بالذات أو بالغير على جلب الخير ودفع الأذى وإلا لما دعاه ولا فتح فاه، وفي ذلك بلاء من ربكم عظيم، فالحزم التجنب عن ذلك وعدم الطلب إلا من الله تعالى القوي الغني الفعال لما يريد (1) ومن وقف على سر ما رواه الطبراني في معجمه من أنه كان في زمن النبي صلّى الله عليه وسلّم منافق يؤذي المؤمنين فقال الصديق رضي الله تعالى عنه: قوموا بنا نستغيث برسول الله صلّى الله عليه وسلّم من هذا المنافق فجاؤوا إليه، فقال: إنه لا يستغاث بي إنما يستغاث بالله تعالى» لم يشك في أن الاستغاثة بأصحاب القبور- الذين هم بين سعيد شغله نعيمه وتقلبه في الجنان عن الالتفات إلى ما في هذا العالم، وبين شقي ألهاه عذابه وحبسه في النيران عن إجابة مناديه والإصاخة إلى أهل ناديه- أمر يجب اجتنابه ولا يليق بأرباب العقول ارتكابه(3/ 297)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اللہ داد فیض اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 50279کی تصدیق کریں
0     643
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • قوالی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • کس سے اصلاحی تعلق قائم کیا جائے؟

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 1
  • میاں بیوی میں سے ہر ایک کا الگ الگ پیر سے بیعت ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • گناہوں سے معافی کاطریقہ

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • ذکر و اذکار اور وظائف کے لئے شیخ کی اجازت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • کسی ولی کی روح سے فائدہ پہنچنےکا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • فنافی الرسول کا کیا مطلب ہے

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
Related Topics متعلقه موضوعات