طلاق کے سات مہینے پہلے میں نے اپنی بیوی کو دو بار طلاق کا لفظ بیان کیا ہے ، میں یو اے ای میں رہتا ہوں، میں نے کوئی بھی لفظ رجوع کا نہیں بولا، لیکن بات کرتا رہا ہوں ، مجھے اس بارے میں علم نہیں کہ عدت کا وقت گزر گیا، میری بیوی کو بھی اس کا علم نہیں تھا، اب ایک دن لڑائی کے دوران میں نے کہا کہ چلی جاؤ، میں نے تمہیں نہیں رکھنا، تو اس نے کہا کہ طلاق دو ، مگر "جاؤ گی " میں نے تین مرتبہ یہ الفاظ استعمال کیے ، کیا اگر پہلے ہی رجوع نہیں ہوا تو کیا دو بارہ طلاق ہو جائے گی، ا وقت بھی گزر گیا، میں گھر بھی نہیں گیا تو کیا میں دوبارہ نکاح کر سکتا ہوں ؟
سابقہ دو طلاقوں کے بعد اگر سائل کی بیوی کی عدت تین ماہواریاں نہ گزری ہو ں تو حالیہ لڑائی کے الفاظ مذاکرۂ طلاق میں کہنے سے تیسری طلاق بھی واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا جبکہ عورت ایام عدت کےبعد دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہے , اور اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کو لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
کمافی الدرالمختار: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره(3/409)
وفیہ ایضاً: (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب الخ(3/296)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0