السلام علیکم محترم مفتی صاحب!
”اللہ کے راستہ“سے مراد کیا ہے؟ کیا صرف اور صرف تبلیغی جماعت میں چار ماہ، چلہ لگانے کو اللہ کا راستہ کہتے ہیں یا اور دوسرے کاموں کو بھی کہتے ہیں؟ جزاک اللہ خیراً
فی سبیل اللہ (اللہ کے راستہ) سے مراد ہر وہ عملِ خیر ہے، جسکی انجام دہی کیلئے آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے، جس میں علم کا طلب کرنا، حج کی ادائیگی کرنا، جہاد کرنے کی غرض سے نکلنے کو قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ”اللہ کا راستہ“کہا گیا ہے، جیسا کہ ذیل میں درج احادیثِ مبارکہ سے واضح ہے، اب اگر کوئی آدمی اشاعتِ دین اور تبلیغ جیسے عملِ خیر کیلئے گھر سے نکلے تو وہ بھی”اللہ کے راستہ“کے حکم میں داخل ہوگا، مگر صرف اسی کو”اللہ کا راستہ“سمجھنا اور باقی کی نفی کرنا، احکامِ شریعت سے ناواقفیت پر مبنی ہے، جس سے احتراز چاہیے۔
کما قال الله تعالیٰ: {وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۔ الآیة} [البقرة: 190]
وفي مشكوٰة المصابيح: وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم الفتح: "لاهجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا"۔(متفق عليه)(2/342)
وفي مرقاة المفاتيح: تحت قوله (ولكن جهاد ونية) :أي: قصد جهاد، أو إخلاص عمل (إلى قوله) وقال النووي: معناه أن تحصيل الخير بسبب الهجرة قد انقطع بفتح مكة ، لكن حصلوه بالجهاد والنية الصالحة، وفيه حث على نية الخير، وأنه يثاب عليها، اھ (7/382)
وفي مشكاة المصابيح: عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم اھ (2/343)
وفي سنن الترمذي: عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من خرج في طلب العلم فهو في سبيل" الله حتى يرجع اھ (2/93)