میرا بھائی جس کا نام چوہدری محمود پاشا ہے، وہ حافظِ قرآن اور قاری ہے، اور کئی سالوں تک نمازِ تراویح میں امامت کے فرائض انجام دیتا رہا ہے، وہ سنی دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتا تھا، باہر کے ملک یوکے میں جاکر اس نے مذہبِ شیعہ اثنا عشریہ اختیار کرلیا ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفۂ اول مانتا ہے اور حضرت ابو بکر صدیق۔رضی اللہ عنہ۔ کی صحابیت کا منکر ہے، ازراہِ کرم واضح الفاظ میں بتائیں، کیا وہ کافر ومرتد ہوگیا ہے؟ اسلام میں اس کی کیا سزا ہے، اور ہم سب اس کے ساتھ کیا سلوک کریں؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا ہو تو سائل کا بھائی اپنے مذکور عقائد اور اثنا عشریہ کےعقائد اختیار کرنے کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج اور مرتد ہوچکا ہے، سائل اور اس کے دیگر رشتہ داروں کو چاہیئے کہ اس کو دینِ اسلام کی طرف بلانے اور اس کی آخرت کو بچانے کی کوشش کریں، اگر ممکنہ کوششوں کے باوجود وہ اپنے کفریہ عقائد سے باز نہ آئے تو اس سے مکمل مقاطعہ بھی کرسکتے ہیں۔
کما فی تفسیر القرطبی: (وضاقت علیھم الارض بما رحبت) ای ضاقت علیھم الارض برحبھا لانھم کانوا مھجورین لایعاملون ولایکلمون وفی ھذا دلیل علیٰ ھجران اھل المعاصی حتیٰ یتوبوا اھ(4/214)۔
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي(4/ 237)