ہم کچھ افراد ایسے ادارے میں کام کرتے ہیں، جو مختلف ممالک سے کیمیکل امپورٹ کرتا ہے ،اور پاکستان کی مختلف فیکٹریز میں سپلائی کرتا ہے، جس سے ڈیلی روٹین کی استعمال کی اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ ہمارا ادارہ مال کی درآمد کے لئے بینک سے قرض لیتا ہے، اور اس پر سود ادا کرتا ہے ،تقریباً پچاس فیصد کاروبار سود پر چل رہا ہے ،اور تمام ملازمین اس بات سے واقف ہیں، جن میں سے کچھ ملازمین کو اس سود کا حساب کتاب بھی لکھنا پڑتا ہے، اور کمپنی اکاونٹ میں انٹری بھی کرنی پڑتی ہے ،مگر کچھ ملازمین کا تعلق سود کے لین دین سے نہیں ہے۔ کمپنی کے مالک نے کسی مذہبی رہنماء سے سن رکھا ہے کہ روزمرہ استعمال کی چیزیں جن سے عام لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے ،اُن پر بینک سے سودی لین دین یا منافع جائز ہے اور حرام نہیں۔ ہم ملازمین اس پریشانی میں ہیں کہ ہمیں اس کمپنی کے منافع سے جو تنخواہ ملتی ہے، وہ جائز ہے یا نہیں ؟
مذکور کمپنی کا بینک سے سودی قرض لینا اور جن ملازمین کا تعلق براہ راست سودی لین دین اور اس کے حساب کتاب سے ہو، ان کی ملازمت اور اس پر تنخواہ لینا اگرچہ ناجائز و حرام ہے، مگر کمپنی کے جن ملازمین کا تعلق براہ راست سودی لین دین سے نہیں ہے، ان کی ملازمت اور ان کی تنخواہ جائز اور درست ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: " هم سواء " . رواه مسلم (2/ 134) -
وفي تكملة فتح الملہم : قوله صلى الله علیه وسلم (وكاتبة) لأن كتابة الربا إعانة عليه ومن هنا ظهر أن التوظف فى البنوك الربوية لا يجوز فإن كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب فذالك حرام اھ (۱/ ۶۱۹)-
وفي حاشية ابن عابدين: قوله ( وكل أنواع الكسب الخ ) أي أنواعه المباحة بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ (6/ 462)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0