بھائی نےاپنی بیوی سے کہا کہ” مجھے ایک طلاق ہے، جب تک تم امی سے معافی نہ مانگ لوگی " بیوی نے فورا معافی مانگ لی، تاکہ طلاق کی شرط ختم ہو جائے ،اب اس کے شوہر نے ایک طلاق کا شک دور کرنے کے لیے مفتی سے تصدیق کروائی کہ: ہاں ایک طلاق ہوگئی، شوہر نے بیوی کو بغیر بتائے رجوع بھی کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ بغیر بتانے سے رجوع ہو جائے گا ؟ شوہر بیوی کو نہیں بتا سکتا کہ ایک طلاق ہو گئی اس نیت سے کہ مسئلہ خراب ہو جائے گا اب وہ بخوشی عام زندگی گزار رہے ہیں ، لیکن بیوی کو اب تک نہیں پتہ کے ایک طلاق ہو گئی ہے، اس معاملہ کو دو ماہ ہو چکے ہیں، بیوی کو بتانے سے قوی امکان ہے کہ حالات خراب ہو جائیں گے، ایسے میں شوہر کیا کرے؟
بیوی کو رجوع کے بارے میں بتانا ضروری نہیں، بلکہ اس کے بغیر بھی رجوع ہو جاتا ہے، اس لئے بلا وجہ پریشان ہونے اور اس سلسلے میں بیوی کو بتانےکی ضرورت نہیں۔
كما في الهندية : وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا اھ(1 /468)
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1